پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 OCT 2026 6:14PM by PIB Delhi
46 سالہ میرا ٹھاکر (بدلا ہوا نام) اپنی زندگی کو بے گھری، بیماری اور غیر یقینی صورت حال سے نکال کر اعتماد، وقار اور خود کفالت کی زندگی میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ یہ تبدیلی ایک اہم اقدام کے تحت فراہم کی جانے والی مضبوط معاونت اور حوصلہ افزائی کے باعث ممکن ہو سکی۔
ان کا سفر سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت کی اسمائل (ایس ایم آئی ایل ای) اسکیم (حاشیے پر موجود افراد کے ذریعۂ معاش اور کاروبار کے لیے معاونت) کے تحت جامع بازآبادکاری اور ذریعۂ معاش کے لیے معاونت کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
گیارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے والی میرا اس سے پہلے پھولوں کے ہار بنانے اور کیٹرنگ کے کام میں معاونت جیسے کام کرتی تھیں۔ خاندانی زندگی میں بگاڑ پیدا ہونے کے بعد انہیں سنگین ذاتی اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ محدود وسائل اور معاونت کے باعث وہ رہائش اور روزگار کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ بھٹکتی رہیں۔
اپنی جمع پونجی اور ضروری دستاویزات کھو دینے کے بعد وہ شدید بیمار ہو گئیں، ان کا ذریعۂ معاش ختم ہو گیا اور بالآخر وہ بے گھر ہو گئیں۔ آمدنی کا کوئی قابل بھروسہ ذریعہ نہ ہونے کے باعث وہ اپنی بنیادی ضروریات اور علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مندروں اور دیگر عوامی مقامات پر بھیک مانگنے لگیں۔ شدید خون کی کمی اور انتہائی کمزوری کے باعث انہیں طبی امداد، مسلسل دیکھ بھال اور ایسے محفوظ ماحول کی ضرورت تھی جہاں وہ اپنی زندگی کو دوبارہ سنوار سکیں۔
16 مارچ 2024 کو مدھیہ پردیش کے اندور میں ضلع عدالت کے احاطے میں واقع شنی مندر سے پرم پوجیہ رکشک آدیناتھ ویلفیئر اینڈ ایجوکیشنل سوسائٹی (پی آر اے ڈبلیو ای ایس) کی ٹیم نے میرا کو ریسکیو کیا اور انہیں بازآبادکاری کے نظام میں شامل کیا۔ انہیں اوروبندو اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں شدید خون کی کمی کے علاج کے ساتھ انہیں غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کی گئی۔ ان کی دونوں آنکھوں میں موتیا بند کی کامیاب سرجری بھی کی گئی، جس سے ان کی بینائی اور مجموعی صحت میں بہتری آئی۔
اسمائل اسکیم کے تحت انہیں ادارہ جاتی سطح پر جامع نگہداشت فراہم کی گئی، جس میں محفوظ رہائش، طبی علاج، نفسیاتی مشاورت اور مسلسل بازآبادکاری کے لیے معاونت شامل تھی۔ اس محفوظ اور معاون ماحول نے انہیں جسمانی طاقت بحال کرنے، جذباتی استحکام حاصل کرنے اور دوسروں پر دوبارہ اعتماد کرنے میں مدد دی۔

صحت میں بہتری آنے کے ساتھ ہی میرا نے یوگا، مراقبہ اور موسیقی کے ذریعے علاج کے سیشنوں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ انہوں نے رام نومی کے موقع پر منعقدہ ایک ثقافتی پروگرام میں بھی حصہ لیا، جس میں ایک ڈرامائی پیش کش کے دوران انہوں نے شبری کا کردار ادا کیا۔ اس پیش کش سے ان کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور دوسروں کے ساتھ گھلنے ملنے کی آمادگی کا اظہار ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے پرانی ساڑیوں سے قالین اور دروازوں پر بچھانے والی چٹائیاں بنانے، سلائی، موتیوں کے ہار بنانے، اگربتیاں تیار کرنے اور ماحول دوست مصنوعات، مثلاً گائے کے گوبر سے مورتیاں، دیے اور ہون کنڈ بنانے کی تربیت حاصل کی۔ جولائی 2025 میں انہوں نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سوشل ڈیفنس (این آئی ایس ڈی) کے زیر اہتمام منعقدہ ایک ورکشاپ میں شرکت کی، جس سے ان کی بازآبادکاری اور ہنرمندی کی ترقی کے سفر کو مزید تقویت ملی۔
وقت گزرنے کے ساتھ میرا بازآبادکاری مرکز کی ایک ذمہ دار اور قابل احترام رکن بن کر ابھریں۔ انہوں نے وارڈ کے انتظام و انصرام کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور مرکز میں مقیم دیگر خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم تعاون کیا۔ آج وہ بھیک مانگنے پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے ہنر کو ذریعۂ معاش بنانے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ انہوں نے بازآبادکاری مرکز میں باورچی خانے کے کام کاج کی ذمہ داری بھی سنبھال لی ہے اور روزانہ تقریباً 50 سے 60 مستفیدین کے لیے خود ناشتہ تیار کرتی ہیں۔ ان کی یہ خدمات ان کی کھانا پکانے کی صلاحیت، نظم و ضبط اور اجتماعی فلاح و بہبود کے تئیں ان کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔
ان ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ میرا میلوں، عوامی بازاروں اور نمائشوں میں شرکت کر کے اپنی ہاتھ سے تیار کردہ مصنوعات فروخت کرتی ہیں، جس سے وہ ماہانہ تقریباً 8,000 روپے کماتی ہیں۔ بھیک مانگ کر روزانہ تقریباً 200 روپے کی غیر یقینی آمدنی حاصل کرنے سے لے کر دستکاری اور دیگر ہنروں کے ذریعے باقاعدہ اور باوقار ذریعۂ معاش اختیار کرنے تک، انہوں نے ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ انہوں نے اپنا اعتماد بحال کیا، قائدانہ صلاحیتیں پیدا کیں اور دوسروں کی زندگیوں میں مثبت کردار ادا کرنے کے نئے طریقے تلاش کیے۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ مزید مالی خود کفالت حاصل کریں، ایک مستحکم ذریعۂ معاش قائم کریں اور بالآخر دیگر بازآبادکاری شدہ خواتین کے ساتھ ایک علیحدہ گھر میں رہائش اختیار کریں۔ وہ یہ بھی امید رکھتی ہیں کہ اپنے تجربات کے ذریعے اسی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنے والے افراد کی مدد کر سکیں گی۔
میرا کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح ریسکیو، طبی نگہداشت، نفسیاتی معاونت، پیشہ ورانہ تربیت اور ذریعۂ معاش کے مواقع باہم مل کر مؤثر بازآبادکاری کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ اسمائل اسکیم کے تحت مسلسل معاونت کے ذریعے وہ غیر محفوظ اور کمزور حالات سے نکل کر خود مختاری کی جانب اور غیر یقینی صورت حال سے نئی امید کی طرف بڑھی ہیں۔ ان کی کہانی بازآبادکاری کے ایک جامع طریقۂ کار کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے، جو فوری امداد تک محدود رہنے کے بجائے افراد کو وقار، اعتماد اور پائیدار ذریعۂ معاش کے مواقع کے ساتھ اپنی زندگی دوبارہ سنوارنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
**************
ش ح۔ ف ش ع
28-10-2026
U: 6855