پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 OCT 2026 8:55PM by PIB Delhi
بھارت کی ثقافتی شناخت کے تحفظ، یادگاروں کے احیا اور قوم کی تاریخی یادداشت پر گفتگو کو اجاگر کرتے ہوئے، کتاب ’ٹائم لیس انڈیا: وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی ثقافتی شناخت کا تحفظ اور احیا‘ کا آج آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) اور اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس (آئی جی این سی اے) کے اشتراک سے اِفتتاح کیا گیا۔ یہ کتاب آئی جی این سی اے اور سبھی پبلیکیشنز نے شائع کی ہے اور اس کی تدوین ترون وجے نے کی ہے۔ یہ تقریب دھروہر بھون، اے ایس آئی، منڈی ہاؤس، نئی دہلی میں منعقد کی گئی، جس میں مرکزی وزیر برائے ثقافت اور سیاحت جناب گجیندر سنگھ شیخاوت مہمانِ خصوصی تھے۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ، وزیر مملکت برائے سائنس و ٹکنالوجی اور ارضیاتی سائنسز، مہمانِ اعزازی کے طور پر شریک ہوئے۔ ڈاکٹر ونے ساہسربدھے، سابق رکن راجیہ سبھا اور انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز (آئی سی سی آر) کے سابق صدر نے کلیدی خطبہ دیا۔ اس سیشن کی صدارت ثقافتی مفکر ڈاکٹر انیل گوئل نے کی۔

استقبالیہ تقریر آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل جناب وائی ایس راوت نے کی۔ افتتاحی تقریر ساؤتھ ایشین یونیورسٹی کے اسکول آف آرٹس، میڈیا اینڈ ڈیزائن کے ڈین پروفیسر (ڈاکٹر) رمیش سی گور نے کی۔ کتاب کے مصنف اور مدیر، معروف صحافی اور راجیہ سبھا کے سابق رکن جناب ترون وجے نے کتاب کے مواد اور مقاصد کے بارے میں بات کی۔ شکریہ کی تحریک آئی جی این سی اے کے کلا ندھی ڈوژن کے سربراہ پروفیسر کے انیل کمار نے پیش کی۔
مرکزی وزیر برائے ثقافت اور سیاحت جناب گجیندر سنگھ شیخاوت نے کہا کہ بھارت محض جغرافیائی حدود میں قید ایک ہستی نہیں ہے، بلکہ ہزاروں سال کے تسلسل، علم، روحانی عمل، جدوجہد اور تجربے سے تشکیل پانے والی ایک ثقافتی قوم ہے۔ بھارت کی تہذیب اور ثقافتی شعور صدیوں سے بلا تعطل جاری ہے۔ بھارت نے مکالمے اور ثقافتی تبادلے کے ذریعے دنیا بھر کی تہذیبوں سے تعلقات قائم کیے ہیں۔ اس کی علم کی روایات، تعمیراتی ورثے اور ثقافتی میراث نے دنیا بھر کے ممالک کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ نوآبادیاتی حکم رانی کے دوران، بھارتیوں کے اپنی تہذیب، ثقافت اور روایات پر فخر کے احساس کو کم زور کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس نے اس طریقے کو بھی متاثر کیا جس سے بھارتی اپنی علم کی روایات اور ثقافتی نظریات کو دیکھتے تھے۔ بھارتی تہذیب کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مستقبل کی طرف بڑھتے ہوئے ماضی سے تحریک حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بھگوان رام اور بھگوان کرشن کے نمائندہ نظریات، نیز رشیوں، مفکرین اور علم کے متلاشیوں کی روایات، بھارت کے ثقافتی شعور کی اہم بنیادیں بنی ہوئی ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کتاب کی ستائش کی اور اس کے مدیر، ثقافتی مفکر، مصنف اور سینئر صحافی جناب ترون وجے کو بھارت کی ثقافتی شناخت کے تحفظ اور احیا کی اہمیت کو اجاگر کرنے والی ایک اہم اشاعت پیش کرنے پر سراہا۔
ڈاکٹر ونے ساہسربدھے نے کہا کہ بھارت کی قدیم ثقافت اور اس کے لازوال سفر کو سمجھنے کے لیے اس کے ثقافتی ورثے کے بارے میں آگاہی اور فخر ضروری ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ آزادی کے بعد ایک طویل عرصے تک، بھارتی ثقافت کے بارے میں کھل کر بات کرنے میں ایک غیر ضروری ہچکچاہٹ رہی تھی، جس کی وجہ سے نوآبادیاتی ذہنیت سے مکمل طور پر آزاد ہونا مشکل تھا۔ ’ٹائم لیس انڈیا‘ جیسی کتابیں بھارت کے ثقافتی تسلسل اور بھارتیت کے جوہر کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

مارک ٹلی کی کتاب ’نو فل اسٹاپس ان انڈیا‘ کا حوالہ دیتے ہوئے، انھوں نے بھارتی ذہن کی ایک امتیازی خصوصیت کی طرف توجہ دلائی۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی ذہن عام لوگوں کے عقیدے کو کم زور کرنے کی کوشش نہیں کرتا، بلکہ ان کے عقائد اور تجربات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ بھارتی تہذیب کا سفر تسلسل، مکالمے اور تبدیلی کا رہا ہے، اور اسے کسی ایک نتیجے یا محدود نقطہ نظر تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔
انھوں نے زور دیا کہ کتابوں کی اشاعت اور تحفظ کے ساتھ ساتھ، پڑھنے کی عادت کو فروغ دینا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ بھارتی ثقافت کو صرف کتابوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے تعلیم اور روزمرہ کی زندگی کا حصہ بننا چاہیے۔ انھوں نے مادری زبان میں تعلیم کو فروغ دینے اور بھارتی زندگی اور ثقافت سے متعلق مواد کو طلبہ تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ بھارت کے لازوال ثقافتی سفر کو مناسب نقطہ نظر سے سمجھنا اور تعلیمی نظام کو نوآبادیاتی اثرات سے آزاد کرنا موجودہ وقت کی اہم ضروریات ہیں۔
ڈاکٹر انیل گوئل نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ بھارت ایک قدیم تہذیب اور ایک ثقافتی شعور ہے جو ہزاروں برسوں سے جاری ایک زندہ روایت سے تشکیل پایا ہے۔ متعدد حملوں اور تبدیلیوں کے باوجود، بھارت کی ثقافتی روح زندہ ہے۔ اس کے مندر، اسٹوپے، قلعے، مجسمے اور کتبے محض تاریخی یادگاریں نہیں ہیں، بلکہ اس کے آباؤ اجداد کے علم، فن، سائنس، عقیدے اور فلسفے کے گواہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ورثے کا تحفظ قومی شناخت، ثقافتی تسلسل اور آنے والی نسلوں کے تئیں ایک ذمہ داری ہے۔
انھوں نے حقائق اور شواہد کے ذریعے بھارتی تاریخ کو سمجھنے اور بھولی ہوئی کام یابیوں کو منظر عام پر لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ نوآبادیاتی اثرات سے آزاد ہو کر ثقافتی ورثے کو سمجھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ کسی ملک کا جائزہ ایسے پیرامیٹرز کے ذریعے لیا جانا چاہیے جو اس کی سماجی اور ثقافتی حقیقتوں کی عکاسی کریں۔ ترقی اور ورثہ، جدیدیت اور روایت، اور سائنس اور ثقافت متضاد نہیں بلکہ تکمیلی ہیں۔ ’ٹائم لیس انڈیا‘ جیسی کتابیں بھارت کے تہذیبی تسلسل اور ثقافتی ورثے کی سمجھ کو وسیع کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

اس موقع پر، اس کالرز، مورخین اور دانش وروں نے ’ٹائم لیس انڈیا‘ کے ذریعے بھارت کے تہذیبی تسلسل، ثقافتی ورثے اور اس کی تاریخی میراث کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
یادگاروں کے تحفظ اور ثقافتی یادداشت پر مرکوز ایک کتاب
’ٹائم لیس انڈیا‘ یادگاروں کے کردار کو بھارت کی ثقافتی شناخت کے تحفظ اور احیا میں، نیز قوم کی تاریخی یادداشت کے گرد موجود گفتگو کے ساتھ، تلاش کرتی ہے۔ یہ عنوان بھارت کے ثقافتی تسلسل کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو مختلف تاریخی ادوار، تعمیراتی روایات اور ثقافتی ورثے کی شکلوں کے ذریعے نمایاں رہتا ہے۔
یہ کتاب یادگاروں کے تحفظ اور ”قوم کی یادداشت کو نوآبادیاتی اثرات سے آزاد کرنے“ کے خیال کو خاص اہمیت دیتی ہے۔ یہ نقطہ نظر بھارت کے ثقافتی ورثے کو اس کے اپنے تاریخی تجربات، روایات اور ثقافتی نقطہ نظر کے ذریعے سمجھنے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
اس اِفتتاح نے اشاعت کو بھارتی ثقافتی ورثے کے تحفظ اور اس کے گرد گفتگو کو وسیع کرنے کی سمت ایک اہم اقدام کے طور پر پیش کیا۔ اس تقریب نے ثقافت، تاریخ، آثار قدیمہ اور ثقافتی مطالعات پر مکالمے کو آگے بڑھانے کا موقع بھی فراہم کیا۔
***
(ش ح - ع ا)
U.No. 6877