بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے مرکزی وزیر جناب جیتن رام مانجھی نے بھارت بھر میں 11,333 نئی مائیکرو انٹرپرائزز کی حمایت کے لیے پی ایم ای جی پی کے تحت 1,000 کروڑ روپے کی مارجن منی سبسڈی جاری کی


پی ایم ای جی پی کی تاریخی حمایت سے 3,260 کروڑ روپے کے بینک کریڈٹ کی سہولت ملی، جس سے 1.02 لاکھ سے زیادہ پائیدار روزگار کے مواقع پیدا ہوئے اور دیہی بھارت میں جامع انٹرپرینیورشپ کو فروغ ملا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 OCT 2026 9:29PM by PIB Delhi

بھارت سرکار کی بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت (ایم ایس ایم ای) نے وزیر اعظم کے روزگار پیدا کرنے کے پروگرام (پی ایم ای جی پی) کے تحت 1,000 کروڑ روپے کی مارجن منی (ایم ایم) سبسڈی جاری کرکے خود روزگار اور زمینی سطح پر انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے میں ایک اور اہم سنگ میل حاصل کیا ہے۔

یہ سبسڈی بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے مرکزی وزیر جناب جیتن رام مانجھی نے وزارت کے ذریعے کرتویہ بھون-3، نئی دہلی میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران جاری کی۔ اس تقریب میں بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزیر مملکت محترمہ شوبھا کرندلاجے؛ بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت کے سکریٹری جناب بھارت کھیرا؛ وزارت کے دیگر سینئر اہلکاران، کھادی اور گرام ادیوگ کمیشن کے سی ای او، نیشنل اسمال انڈسٹریز کارپوریشن (این ایس آئی سی) کے سی ایم ڈی، اور ترقیاتی کمشنر (ایم ایس ایم ای) کے دفتر نے شرکت کی۔

پی ایم ای جی پی بھارت سرکار کے فلیگ شپ کریڈٹ سے منسلک سبسڈی پروگراموں میں سے ایک ہے جس کا مقصد غیر زرعی شعبے میں نئی مائیکرو انٹرپرائزز کے قیام کے ذریعے پائیدار خود روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت کے زیر انتظام یہ اسکیم قومی سطح پر کھادی اور گرام ادیوگ کمیشن (کے وی آئی سی) کے ذریعے نافذ کی جاتی ہے، جس میں دیگر نامزد نفاذ کرنے والی ایجنسیوں جیسے کے وی آئی بیز، ڈسٹرکٹ انڈسٹریز سینٹرز اور کوئر بورڈ کی حمایت شامل ہے۔ اس اسکیم کے تحت، خواہشمند کاروباریوں کو نئی مائیکرو انٹرپرائزز قائم کرنے کے لیے بینک سے منظور شدہ پروجیکٹ قرضوں پر ایم ایم سبسڈی کی شکل میں مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ طویل مدتی انٹرپرائز کی پائیداری اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے کے وی آئی سی کے فیلڈ دفاتر اور نفاذ کرنے والی ایجنسیاں زمینی سطح پر بیداری پیدا کرنے، ہینڈ ہولڈنگ، صلاحیت سازی، مارکیٹ لنکیجز، نگرانی اور قیام کے بعد کی حمایت بھی فراہم کرتی ہیں۔ یہ پروگرام انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے، مقامی معیشتوں کو مضبوط بنانے، اور پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں، خاص طور پر ملک کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں، ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

2014-15 سے پی ایم ای جی پی کا تبدیلی لانے والا اثر

پی ایم ای جی پی ملک کے سب سے کام یاب روزگار پیدا کرنے والے پروگراموں میں سے ایک کے طور پر ابھرا ہے۔ مالی سال 2014-15 سے، پی ایم ای جی پی نے 70,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے بینک سے منظور شدہ قرضوں اور 25,193 کروڑ روپے سے زیادہ کی ایم ایم سبسڈی کے ذریعے 8.38 لاکھ سے زیادہ مائیکرو انٹرپرائزز کے قیام میں سہولت فراہم کی ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں تقریباًً 75 لاکھ پائیدار روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

پی ایم ای جی پی کی کام یابیاں جامع اور مساوی ترقی کے لیے اس کی مضبوط وابستگی کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔ تقریباًً 80% امداد یافتہ یونٹس دیہی علاقوں میں قائم کی گئی ہیں۔ مزید برآں، تقریباًً 50% مستفیدین ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی زمروں سے تعلق رکھتے ہیں، جب کہ تقریباًً 40% انٹرپرائزز خواتین کاروباریوں کی ملکیت ہیں، جو سماجی شمولیت، خواتین کی قیادت میں ترقی، اور معاشرے کے پسماندہ طبقات کی تفویضِ اختیارات کو فروغ دینے میں اسکیم کے اہم کردار کو ظاہر کرتا ہے۔

1,000 کروڑ روپے کی سبسڈی سے اب تک 11,333 کاروباریوں کو فائدہ

1,000 کروڑ روپے کی ایم ایم سبسڈی کے اجرا سے پی ایم ای جی پی کے تحت 11,333 مستفیدین کو مدد ملے گی۔ ان مستفیدین کو مختلف شعبوں میں نئی مائیکرو انٹرپرائزز قائم کرنے کے لیے تقریباًً 3,260 کروڑ روپے کے بینک سے منظور شدہ پروجیکٹ قرضے موصول ہوئے ہیں۔

اس قسط کے تحت قائم کی جانے والی انٹرپرائزز سے ملک بھر میں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، 1.02 لاکھ سے زیادہ پائیدار روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ یہ امداد خواتین کی قیادت میں انٹرپرینیورشپ اور صنفی جامع ترقی؛ سماجی طور پر جامع ترقی، خاص طور پر ایس سی اور ایس ٹی برادریوں میں؛ اور متوازن علاقائی ترقی، جس میں شمال مشرقی خطے (این ای آر) اور خواہش مند اضلاع پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، کو آگے بڑھانے کے لیے حکمتِ عملی کے مطابق نشانہ بنایا گیا ہے۔

مالی سال 2026-27 کے دوران مضبوط کارکردگی

اس اجرا سے پہلے، مالی سال 2026-27 کے دوران، پی ایم ای جی پی نے اکتوبر 2026 تک 794.52 کروڑ روپے کی ایم ایم سبسڈی کے ساتھ 25,895 مائیکرو انٹرپرائزز کی پہلے ہی حمایت کی تھی۔ موجودہ 1,000 کروڑ روپے کی سبسڈی کی قسط کے اجرا کے ساتھ، اس اسکیم سے ملک بھر میں انٹرپرینیورشپ کی ترقی اور روزگار کے مواقع کی پیداوار میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے، جس سے خود کفیل، جامع، اور روزگار پر مبنی معیشت کی تعمیر کے بھارت سرکار کے وژن کو تقویت ملے گی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے، جدت طرازی کو فروغ دینے، اور زمینی سطح پر روزی روٹی پیدا کرنے میں مائیکرو انٹرپرائزز کے اہم کردار پر زور دیا۔ انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت سرکار یہ یقینی بنانے کے لیے عہدبستہ ہے کہ خواہشمند کاروباریوں، خاص طور پر دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے، خواتین، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، دیگر پسماندہ طبقات، اور اقتصادی طور پر کم زور طبقات کو اپنی کاروباری خواہشات کو کام یاب انٹرپرائزز میں تبدیل کرنے کے لیے مناسب ادارہ جاتی مدد حاصل ہو۔

بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت پی ایم ای جی پی کی رسائی کو بڑھانے اور انٹرپرینیورشپ ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے کے لیے عہدبستہ ہے تاکہ پائیدار روزی روٹی پیدا کی جا سکے، مقامی مینوفیکچرنگ اور خدمات کو فروغ دیا جا سکے، اور جامع اور وسیع البنیاد اقتصادی ترقی کے ذریعے وِکست بھارت کے وژن میں نمایاں حصہ ڈالا جا سکے۔

***

(ش ح - ع ا)

U.No. 6880


(ریلیز آئی ڈی: 2329829) وزیٹر کاؤنٹر : 12
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Malayalam