پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 NOV 2026 3:45PM by PIB Delhi
ہندوستان نے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں غیر معمولی پیش رفت کی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ماحولیاتی عہد و پیمان اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ ملک کے ترقیاتی سفر کو آگے بڑھانے کا ذریعہ ہیں۔ یہ بات نائب صدر جمہوریہ ہند جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج یہاں بھارت قابلِ تجدید توانائی سربراہ کانفرنس اور ایکسپو 2026 کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
نائب صدر جمہوریہ نے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ہندوستان کی کامیابیوں، پائیدار ترقی کے تئیں اس کے عزم اور ملک بھر میں گھروں، کسانوں اور برادریوں کو بااختیار بنانے میں صاف ستھری توانائی کے انقلابی کردار کو اجاگر کیا۔
نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حاصل ہونے والی پیش رفت وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے اس وژن کی توثیق کرتی ہے کہ ماحولیاتی عہد و پیمان ترقی کے محرک ہیں۔ ان کی بدولت توانائی تک رسائی میں اضافہ ہوا ہے، صنعتوں کی لاگت میں کمی آئی ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور درآمدات پر انحصار کم ہوا ہے۔ صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط اشتراک کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’2040 کی ٹیکنالوجیز آج کی تجربہ گاہوں اور نئے کاروباری اداروں سے جنم لیں گی۔‘‘ انہوں نے تحقیق، اختراع اور کاروباری سرگرمیوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نئی اور قابلِ تجدید توانائی، تعلیم اور امورِ صارفین، خوراک و سرکاری نظامِ تقسیم کے مرکزی وزیر جناب پرہلاد جوشی نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان کے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں 15 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہوئی ہے، جبکہ صرف گزشتہ دو برسوں میں اس شعبے میں تقریباً 6 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
جناب جوشی نے بتایا کہ بھارت قابلِ تجدید توانائی سربراہ کانفرنس اور ایکسپو 2026 ہندوستان میں منعقد ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا قابلِ تجدید توانائی کا پروگرام ہے، جس میں 135 ممالک سے 75,000 سے زیادہ افراد نے شرکت کی۔ اس میں 32 سے زائد بین الاقوامی وزرا، آٹھ سے زیادہ شراکت دار ممالک اور یوروپی یونین نے حصہ لیا۔ اس سربراہ کانفرنس میں 14 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے شراکت داروں کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس کے علاوہ چھ وزرائے اعلیٰ، 10 ریاستی وزرائے توانائی، 400 سے زائد نمائش کنندگان، 620 سے زیادہ مقررین اور 113 اجلاس بھی اس کا حصہ رہے۔ اس موقع پر بین الاقوامی شمسی اتحاد کی نویں اسمبلی اور ماحولیات کیلئے سازگار ہائیڈروجن سے متعلق چوتھی بین الاقوامی کانفرنس کا بھی انعقاد کیا گیا۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ چار روز قبل شرکا عالمی توانائی کی منتقلی کے اگلے مرحلے کی سمت متعین کرنے کے مشترکہ عزم کے ساتھ یہاں جمع ہوئے تھے۔ سربراہ کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے اس کی کامیابیوں پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے قابلِ تجدید توانائی کے میدان میں اپنی کامیابیوں کی داستان دنیا کے سامنے پیش کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’واٹس نیکسٹ‘ فورم نے اختراع کاروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا، جبکہ ’نیکسٹ ٹیرا واٹ‘ وزارتی مکمل اجلاس میں توانائی کی مربوط منصوبہ بندی، مضبوط بنیادی ڈھانچے، توانائی ذخیرہ کرنے اور مالی وسائل کی فراہمی جیسے موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
جناب جوشی نے گزشتہ روز لیے گئے ایک اہم فیصلے کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے بڑے پیمانے پر بجلی کے ذخیرے کی 92 گیگاواٹ گھنٹے کی صلاحیت کو فروغ دینے کے لیے 14,500 کروڑ روپے کی قابلِ عمل مالی اعانت (ویبلٹی گیپ فنڈنگ) اسکیم کو منظوری دی۔ اس میں 30 گیگاواٹ کے بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام (بی ای ایس ایس)، 60 گیگاواٹ کے پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹس (پی ایس پی) اور نئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے 2 گیگاواٹ کی صلاحیت شامل ہے۔
جناب جوشی نے یہ بھی بتایا کہ ہندوستان نے بڑے پیمانے پر شمسی توانائی کی پیداوار کی لاگت 30 سے 35 امریکی ڈالر فی میگاواٹ گھنٹہ(2,840 سے 3,313 روپے) تک لانے میں کامیابی حاصل کی ہے، جو دنیا میں سب سے کم ہے۔ قابلِ تجدید توانائی کے استعمال سے ہندوستان نے معدنی ایندھن کی درآمد پر 100 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کی بچت کی ہے، جو تقریباً 9.46 لاکھ کروڑ روپے کے برابر ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 2025 میں ہندوستان نے 15 گیگاواٹ کے ہائبرڈ قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کی نیلامی کی، جس کے ساتھ نیلامی کے ذریعے مختص کی گئی مجموعی صلاحیت 64 گیگاواٹ تک پہنچ گئی۔ یہ دونوں اعداد و شمار دنیا بھر میں اپنی نوعیت کے سب سے زیادہ ہیں۔ 2023 سے 2025 کے دوران حاصل ہونے والے اوسط نرخ تقریباً 45 امریکی ڈالر فی میگاواٹ گھنٹہ (4,260 روپے) رہے، جو کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں سے حاصل ہونے والی بجلی کی اوسط لاگت سے 20 فیصد کم تھے۔
ہندوستان کی بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے بتایا کہ شمسی ماڈیولز کی تیاری کی صلاحیت 225 گیگاواٹ سے تجاوز کر گئی ہے، جس کے ساتھ ہندوستان دنیا میں شمسی ماڈیولز تیار کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خود استعمال کے لیے تقسیم شدہ شمسی توانائی کی صلاحیت 2030 تک 100 گیگاواٹ سے تجاوز کر جائے گی۔
مرکزی وزیر نے بتایا کہ ان اعداد و شمار کو بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کی رپورٹ انڈیا آر ای مارکیٹ رپورٹ 2026: 2030 تک تجزیہ اور پیش گوئی میں بھی شامل کیا گیا ہے، جس کا اجرا سربراہ کانفرنس کے دوران کیا گیا۔
سربراہ کانفرنس کے دوران جناب جوشی نے فرانس، ڈنمارک، کینیڈا پنشن پلان انویسٹمنٹ بورڈ اور گلوبل ساؤتھ کے متعدد ممالک کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کی، تاکہ تعاون اور سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کیے جا سکیں۔
اس سربراہ کانفرنس میں مختلف ممالک سے 800 بین الاقوامی مندوبین نے شرکت کی اور 10 مفاہمت ناموں اور فریم ورک معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ ان میں ایس ای سی آئی کے ساتھ مفاہمت نامہ بھی شامل ہے، جس کے تحت سالانہ 3 لاکھ ٹن سبز میتھانول کی فراہمی کے امکانات موجود ہیں۔
قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے ساتھ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جناب جوشی نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کے لیے بجلی کی ترسیل کے مضبوط نیٹ ورک، ذخیرہ کرنے کی زیادہ گنجائش اور جدید تر بجلی کے نظام کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ پیش گوئی، پیشگی دیکھ بھال اور توانائی کے بندوبست میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا کردار انتہائی اہم ہوگا۔
وزیر موصوف نے مزید بتایا کہ مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز سے 2031-32 تک بجلی کی مانگ میں 26.3 گیگاواٹ کا اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے اس اضافی مانگ کو پورا کرنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس مانگ کو پورا کرنے میں قابلِ تجدید توانائی کا بنیادی کردار ہوگا۔ انہوں نے کہا، ’’مصنوعی ذہانت مستقبل کو توانائی فراہم کرے گی اور صاف ستھری توانائی مصنوعی ذہانت کو قوت بخشے گی۔‘‘
اپنے خطاب کے اختتام پر جناب جوشی نے دہرایا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے بی آر ای ایس ای 2026 میں ہندوستان کے سامنے ایک ہدف رکھا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ صنعت کے پاس مطلوبہ صلاحیت ہے، سرمایہ کار پُراعتماد ہیں اور بین الاقوامی شراکت دار اس ہدف کے حصول کے لیے مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔
اس موقع پر نئی اور قابلِ تجدید توانائی و بجلی کے وزیر مملکت شری پد یسو نائک، حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر ڈاکٹر اجے کمار سود اور نئی و قابلِ تجدید توانائی کی وزارت کے سکریٹری جناب سنتوش کمار سارنگی موجود تھے۔ سربراہ کانفرنس میں شراکت دار ممالک کے نمائندوں، پالیسی سازوں، سرمایہ کاروں، صنعتی شعبے کے رہنماؤں، علمی شراکت داروں، نمائش کنندگان اور دیگر مندوبین نے بھی شرکت کی۔
******
ش ح ۔ع ح۔ن ع
U. No.7274