قومی انسانی حقوق کمیشن
azadi ka amrit mahotsav

بھارت  کےانسانی حقوق کے قومی کمیشن نے اس سال سات ماہ کے دوران اتر پردیش کے ضلع غازی آباد کے مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں میں حمل کے دوران علاج یا زچگی کے وقت 24 خواتین کی مبینہ اموات کا ازخود نوٹس لیا


اطلاعات کے مطابق، ضلع میں 3 ہزار سے زائد حاملہ خواتین میں حمل کو زیادہ خطرے والا قرار دیا گیا ہے

کمیشن نے اتر پردیش کے محکمۂ طبی صحت و خاندانی بہبود کے پرنسپل سکریٹری اور ضلع مجسٹریٹ، غازی آباد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس معاملے پر دو ہفتے کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 NOV 2026 4:50PM by PIB Delhi

بھارت  کےانسانی حقوق کے قومی کمیشن (این ایچ آر سی) نے میڈیا کی ایک رپورٹ کا ازخود نوٹس لیا ہے، جس کے مطابق اتر پردیش کے ضلع غازی آباد کے مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں میں اپریل سے اکتوبر 2026 کے دوران حمل کے دوران علاج یا زچگی کے وقت 24 خواتین کی موت ہو گئی۔ اس کا انکشاف محکمۂ صحت کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ راجاپور علاقے میں سب سے زیادہ 8 اموات درج کی گئیں، جبکہ لونی اور بھوجپور میں 5، 5 خواتین کی موت ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق، ضلع میں 3 ہزار سے زائد حاملہ خواتین کی شناخت ایسے معاملات کے طور پر کی گئی ہے جن میں حمل کے دوران پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہے۔

کمیشن نے مشاہدہ کیا ہے کہ اگر خبر میں دی گئی تفصیلات درست ہیں تو یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے سنگین معاملے ہیں۔ چنانچہ اس نے اتر پردیش کے محکمۂ طبی صحت و خاندانی بہبود کے پرنسپل سکریٹری اور ضلع مجسٹریٹ، غازی آباد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس معاملے پر دو ہفتے کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

مؤرخہ3 نومبر 2026 کو شائع ہونے والی میڈیا رپورٹ کے مطابق، 24 میں سے 10 خواتین کی موت زیادہ خون بہنے، 3 کی شدید انفیکشن اور 3 دیگر خواتین کی موت خون کے زیادہ دباؤ کےباعث ہوئی۔ باقی 8 اموات مبینہ طور پر دیگر طبی وجوہات، جن میں خون کی کمی، دل کا دورہ، تپ دق اور دماغی رسولی شامل ہیں، کے سبب ہوئیں۔

******

) ش ح –ک ح -ت ع)

U.No. 7279


(ریلیز آئی ڈی: 2333158) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी