قومی انسانی حقوق کمیشن
azadi ka amrit mahotsav

 این ایچ آر سی، بھارت نے اتر پردیش کے ضلع بلیا میں اسکول کی عمارت کی چھت کے قریب سے گزرنے والی 11 کے وی بجلی کی تار کی زد میں آنے سے 12 سالہ طالب علم کی مبینہ موت کا ازخود نوٹس لیا


 اطلاعات کے مطابق، اساتذہ نے طالب علم سے کہا تھا کہ وہ دوپہر کے کھانے کے لیے باورچی خانے کی چھت پر چڑھ کر لوکی توڑے

کمیشن نے اتر پردیش پاور کارپوریشن لمیٹڈ کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر، ضلع مجسٹریٹ بلیا اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس معاملے پر دو ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 NOV 2026 4:52PM by PIB Delhi

قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی)، بھارت نے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی اس خبر کا ازخود نوٹس لیا ہے کہ 2 نومبر 2026 کو اتر پردیش کے ضلع بلیا کے ایک سرکاری پرائمری اسکول میں چوتھی جماعت کے 12 سالہ طالب علم کی اسکول کی عمارت کی چھت کے قریب سے گزرنے والی 11 کے وی بجلی کی تار کی زد میں آنے سے موت ہو گئی۔ اطلاعات کے مطابق، اساتذہ نے طالب علم سے کہا تھا کہ وہ دوپہر کے کھانے کے لیے باورچی خانے کی چھت پر چڑھ کر لوکی توڑے۔

کمیشن نے مشاہدہ کیا ہے کہ اگر خبر میں دی گئی تفصیلات درست ہیں تو یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے سنگین معاملات کو جنم دیتی ہیں۔ اس لیے اس نے اتر پردیش پاور کارپوریشن لمیٹڈ (یو پی پی سی ایل) کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر، ضلع مجسٹریٹ بلیا اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بلیا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس معاملے پر دو ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

3 نومبر 2026 کو شائع ہونے والی ذرائع ابلاغ کی ایک خبر کے مطابق، اسکول کے دو اساتذہ کو معطل کر دیا گیا ہے اور شکشا متر کی خدمات ختم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

*****

 

 

ش ح۔ا ک۔ف ر

U- 7281

                         


(ریلیز آئی ڈی: 2333173) وزیٹر کاؤنٹر : 14
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी