جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بی آر ای سمٹ اینڈ ایکسپو 2026 نے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں بھارت کی ایک بڑی عالمی قوت کی حیثیت کو مزید مستحکم کیا: نئی اور قابلِ تجدید توانائی  کے مرکزی وزیر  جناب پرہلاد جوشی


یہ سمٹ بھارت کو ایک مضبوط صاف توانائی پر مبنی معیشت، سرمایہ کاری کے لیے ایک پُرکشش مقام اور پائیدار ترقی کے لیے ایک عالمی شراکت دار کے طور پر اس کی حیثیت کو مزید مستحکم کرتی ہے: جناب پرہلاد جوشی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 NOV 2026 5:19PM by PIB Delhi

بھارت قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ایک بڑی عالمی قوت بن کر ابھرا ہے اور دنیا بھر میں اس کی پیش رفت اور بڑھتے ہوئے عزائم کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ یہ بات مرکزی وزیر برائے نئی اور قابلِ تجدید توانائی، تعلیم، امورِ صارفین، خوراک اور عوامی نظامِ تقسیم، جناب پرہلاد جوشی نے آج یہاں بھارت قابل تجدید توانائی سمٹ 2026 کے اختتام پر ذرائع ابلاغ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت منڈپم میں دنیا بھر کے پالیسی سازوں، سرمایہ کاروں، صنعتی شعبے کے رہنماؤں اور اختراع کاروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا۔ 135 سے زائد ممالک کی شرکت کے ساتھ یہ سمٹ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں بھارت کے سب سے بڑے عالمی پلیٹ فارمز میں سے ایک بن کر سامنے آئی۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع تھا جب قابلِ تجدید توانائی کے شعبے کے تین اہم پروگرام ایک ساتھ منعقد کیے گئے۔ ان میں ملکی اور بین الاقوامی متعلقہ فریقین کی بھرپور شرکت بھارت کی قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ترقی پر عالمی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔

اس سمٹ کا افتتاح 2 نومبر 2026 کو وزیر اعظم نے کیا تھا۔ اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں بھارت کی مسلسل سرمایہ کاری کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کو عالمی سطح پر پیدا ہونے والے بحرانوں، بالخصوص کووڈ-19 وبا اور مغربی ایشیا کے بحران کے اثرات کا مقابلہ کرنے میں مدد ملی ہے۔انہوں نے مشاہدہ کیا کہ قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں بھارت کی سرمایہ کاری نے بڑی حد تک ملک کو ان عالمی بحرانوں کے اثرات سے محفوظ رکھا ہے۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کا قابلِ تجدید توانائی کا سفر نہ صرف ملک کے اندر توانائی کے منظرنامے کو تبدیل کر رہا ہے بلکہ ایسے حل اور تجربات بھی فراہم کر رہا ہے جو پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔انسانیت کی بھلائی کے لیے اپنی اختراعات اور کامیابیوں کو دنیا کے ساتھ مشترک کرنے  کے بھارت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صاف توانائی کے شعبے میں بھارت کی حصولیابیاں  دنیا بھر کے ممالک میں توانائی کی منتقلی کے عمل میں معاون ثابت ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔وزیر اعظم نے صاف توانائی کے شعبے میں اختراعات کے نظام میں زیادہ سے زیادہ شرکت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اسٹارٹ اپس، انڈین انسٹی ٹیوٹس آف ٹیکنالوجی ، اختراع کاروں اور کاروباری افراد کو دعوت دی کہ وہ ایسے حل اور کاروباری ماڈلز تیار کریں جن کے ذریعے زیادہ سے زیادہ گھریلو توانائی کی ضروریات صاف توانائی کے ذریعے پوری کی جا سکیں۔

دو سے پانچ  نومبر تک منعقد ہونے والی اس چار روزہ سمٹ میں دنیا بھر کے پالیسی سازوں، صنعتی شعبے کے رہنماؤں، سرمایہ کاروں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں، محققین، اسٹارٹ اپس اور بین الاقوامی اداروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا، تاکہ صاف توانائی کی جانب منتقلی کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔اس سمٹ میں بھرپور شرکت دیکھنے میں آئی، جس میں 75,000 سے زائد افراد نے شرکت کی، 400 سے زیادہ نمائش کنندگان نے اپنے اسٹالز لگائے اور 113 اجلاسوں کے دوران 627 سے زائد مقررین نے اظہارِ خیال کیا۔ اس کے علاوہ 135 ممالک کی نمائندگی کرنے والے تقریباً 800 مندوبین نے شرکت کی، جن میں شراکت دار بین الاقوامی شمسی اتحاد کے رکن ممالک، بین الاقوامی تنظیمیں اور بھارت میں موجود سفارتی مشنز کے نمائندے شامل تھے۔اس موقع پر اعلیٰ سطح کی وزارتی شرکت بھی دیکھنے میں آئی، جس میں 32 بین الاقوامی وزراء، 6 وزرائے اعلیٰ اور مختلف ریاستوں کے 10 وزرائے توانائی شامل تھے۔ یہ شرکت قومی اور ریاستی سطح کے متعلقہ فریقین کی بھرپور دلچسپی اور وابستگی کی عکاسی کرتی ہے۔

پالیسی سازوں، سرمایہ کاروں، صنعتی شعبے، تحقیقی اداروں، اسٹارٹ اپس اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے اس سمٹ نے بھارت کی صاف توانائی کی مارکیٹ پر اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی قومی اور عالمی عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مستقبل کے لائحہ عمل کی تشکیل میں بھی مدد ملی ہے۔

سمٹ میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ بھارت کی صاف توانائی سے متعلق پالیسیاں اور توانائی کی منتقلی کو عام لوگوں تک پہنچانے کے اقدامات معاشی ترقی کو  روایتی ایندھن سے پیدا ہونے والے کاربن اخراج سے الگ کرنے میں اہم رول  ادا کر رہے ہیں۔گزشتہ چند برسوں کے دوران بھارت نے توانائی کی منتقلی کے عمل میں تیزی لائی ہے۔ گزشتہ مالی سال میں ملک کی سالانہ بجلی کی کھپت کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع سے حاصل کیا گیا۔بھارت کے تجربے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ قابلِ تجدید توانائی میں مسلسل سرمایہ کاری، مستحکم اور معاون پالیسی نظام، ادارہ جاتی اصلاحات اور تکنیکی اختراعات کے ذریعے معاشی ترقی کو برقرار رکھتے ہوئے توانائی کے تحفظ کو مستحکم  بنایا جا سکتا ہے۔

سمٹ کے اہم نتائج کے طور پر  صاف توانائی میں سرمایہ کاری پر سرمایہ کاروں کا اعتماد ،ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھارت میں صاف توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات پر بھرپور اعتماد کا اظہار تھا۔غیر فوسل ایندھن پر مبنی توانائی کی پیداواری صلاحیت کو 500 گیگاواٹ تک پہنچانے کے قومی ہدف کے حصول کے لیے بھارت کو تقریباً 220 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے۔سمٹ کے دوران ہونے والی بات چیت سے ظاہر ہوا کہ سرمایہ کی دستیابی کوئی بڑی رکاوٹ نہیں ہے، کیونکہ سرمایہ کاروں نے بھارت میں صاف توانائی کے شعبے کی طویل مدتی ترقی کے امکانات میں مثبت دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ان کی دلچسپی فوری طور پر 2030 تک کے اہداف سے آگے بھی برقرار ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ سرمایہ کاری میں دلچسپی صرف روایتی اسٹریٹجک سرمایہ کاروں تک محدود نہیں رہی، بلکہ پنشن فنڈز، ادارہ جاتی سرمایہ کاروں اور طویل مدتی سرمایہ فراہم کرنے والے اداروں نے بھی شرکت کی۔ یہ بھارت میں صاف توانائی کے شعبے کے مالیاتی نظام کی بڑھتی ہوئی وسعت اور مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے۔

سمٹ کے دوران ہونے والے تبادلہ خیال  میں ایسے بجلی خریداری معاہدوں  کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا جو مالیاتی اعتبار سے قابلِ عمل ہوں۔ اس کے علاوہ بجلی کی خریداری کے لیے قابلِ پیش گوئی انتظامات، خطرات کی واضح تقسیم اور بانڈ مارکیٹ کو مزید وسعت دینے پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ ٹرسٹس اور بلینڈڈ فنانس جیسے نئے مالیاتی ذرائع کے رول  پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

مرکزی وزیر برائے نئی اور قابلِ تجدید توانائی نے سمٹ کے دوران اعلیٰ سطح کی متعدد اہم میٹنگیں کیں، جن میں چیف ایگزیکٹو افسران کی سطح پر صاف توانائی میں سرمایہ کاری سے متعلق ایک گول میز کانفرنس بھی شامل تھی۔ اس کانفرنس میں مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، وزرائے توانائی، سینئر سرکاری افسران اور صنعتی شعبے کے رہنماؤں نے شرکت کی۔گول میز کانفرنس میں قابلِ تجدید توانائی کے اہداف کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اہم ترجیحات کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں بجلی کی پیداوار، ترسیل، ذخیرہ کرنے کے نظام اور بجلی کی مانگ کے مراکز کی مربوط منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ زمین کی دستیابی، ضروری منظوریوں اور منصوبوں پر عمل درآمد کے حوالے سے زیادہ یقین دہانی کو یقینی بنانا شامل تھا۔اس کے علاوہ وزیر موصوف نے فرانس کے وزیرِ مملکت برائے ماحولیاتی منتقلی اور ڈنمارک کے وزیر برائے کاروبار و مسابقت کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔ ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور اور عالمی توانائی کے منظرنامے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔سمٹ کے موقع پر 100 سے زائد کاروباری اداروں کے درمیان کاروبار سے کاروبار(بی2بی) ملاقاتوں کا بھی اہتمام کیا گیا، جن کے ذریعے کاروباری اداروں کو باہمی شراکت داری اور تعاون کے نئے مواقع فراہم ہوئے۔

سمٹ کے دوران ہونے والے مباحثوں سے ظاہر ہوا کہ بھارت کا صاف توانائی کا ایجنڈا اب قابلِ تجدید توانائی کی نصب شدہ پیداواری صلاحیت میں اضافے سے آگے بڑھ کر ایک قابلِ اعتماد، پائیدار  اور مربوط بجلی کے نظام کی تشکیل کی جانب گامزن ہے۔ صنعتی شعبے، کولنگ سسٹمز، الیکٹرک موبلٹی اور ڈیٹا سینٹرز کی جانب سے بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ  کے پیش نظر توانائی کی منتقلی کے اگلے مرحلے میں توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، بجلی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے، گرڈ میں مضبوطی، معاون خدمات، بجلی کی پیداوار کی پیش گوئی، مانگ کے پورا کرنے  کے انتظام اور گرین اوپن ایکسس پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہوگی۔

توانائی ذخیرہ کرنے کا نظام مستقبل قریب کی اہم ترین ترجیحات میں سے ایک بن کر سامنے آیا۔ مباحثوں میں اس ضرورت پر بھی زور دیا گیا کہ توانائی ذخیرہ کرنے اور بجلی کی ترسیل کی منصوبہ بندی کو قابلِ تجدید توانائی کی خریداری اور بجلی کی مانگ  کے ابھرتے ہوئے مراکز کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ادارہ جاتی نظام، گرڈ مینجمنٹ اور ہوا و شمسی توانائی کی پیداوار کی پیش گوئی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید نظاموں کو مضبوط بنانے کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی۔ اس موقع پر چوبیس گھنٹے قابلِ تجدید توانائی کی فراہمی اور مستحکم و حسبِ ضرورت دستیاب قابلِ تجدید توانائی جیسے نئے معاہدوں اور تکنیکی طریقۂ کار پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ان میں ایس ای سی آئی کے حالیہ ٹینڈر میں دریافت ہونے والی 5.25 روپے فی یونٹ کی عالمی سطح پر مسابقتی شرح بھی شامل تھی، جس نے غیر ملکی مندوبین اور پالیسی سازوں کی بھرپور توجہ حاصل کی۔

سمٹ میں اس بات کو بھی اجاگر کیا گیا کہ گرین پروکیورمنٹ صنعتی مسابقت کو بہتر بنانے، برآمدات کو فروغ دینے اور صنعتوں سے کاربن کے اخراج میں کمی لانے کے عمل کو تیز کرنے میں اہم رول  ادا کر سکتی ہے۔اس موقع پر روایتی ایندھن  پر انحصار کرنے والی تیل پر مبنی معیشت سے خودمختار برقی توانائی کے نظام پر مبنی الیکٹرو اکانومی کی جانب منتقلی میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو بھی نمایاں کیا گیا۔

بی آر ای سمٹ اینڈ ایکسپو 2026 کا ایک اور اہم موضوع بھارت میں صاف توانائی کی ملکی مینوفیکچرنگ کے نظام کو مزید مضبوط بنانا تھا۔مباحثوں میں اس ضرورت پر زور دیا گیا کہ محض مصنوعات کو ترتیب دینے   تک محدود رہنے کے بجائے خام مال، مختلف پرزہ جات، آلات اور جدید ٹیکنالوجیز کی ملک میں تیاری کو فروغ دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے مشترکہ لیبارٹریز، آزمائشی  مینوفیکچرنگ لائنز ، عملی مظاہرے کی سہولیات اور جانچ و سرٹیفکیشن کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

سمٹ میں اگلی نسل کی شمسی توانائی کی ٹیکنالوجیز، پیرووسکائٹ سولر سیلز ، ری سائیکل کیے جا سکنے والے ونڈ ٹربائن کے مواد، طویل دورانیے تک توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، الیکٹرولائزرز، فیول سیلز، قابلِ تجدید توانائی میں مصنوعی ذہانت کے استعمال اور فلوٹنگ سولر ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کام کرنے والے متعلقہ فریقین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا۔

سمٹ میں تحقیق اور اختراعات کو تجارتی سطح پر عملی طور پر متعارف کرانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اس سلسلے میں سرکاری خریداری، عملی مظاہرے، جانچ و سرٹیفکیشن کا بنیادی ڈھانچہ اور صنعتی شعبے و تحقیقی اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو بھارتی ٹیکنالوجیز کی تجارتی سطح پر تیز رفتار توسیع کے لیے اہم ذرائع قرار دیا گیا۔

نوجوانوں کی شرکت اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا بھی اس سمٹ کے اختراعی ایجنڈے کا ایک اہم حصہ رہا۔ قابلِ تجدید توانائی سے متعلق ہیکاتھون میں ابتدائی اور ترقی کے مراحل سے گزرنے والے 300 سے زائد اسٹارٹ اپس نے بھرپور شرکت کی۔ اسی طرح آر ای جین چیلنج میں آئی آئی ٹیز، یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں کے نوجوانوں کی نمایاں شرکت دیکھنے میں آئی۔نمائش میں اختراعات کے نظام کے تحت 70 اسٹارٹ اپ پوڈز، 40 تعلیمی پوسٹرز اور 10 تحقیقی مقالے پیش کیے گئے، جن کے ذریعے نوجوان باصلاحیت افراد، محققین اور کاروباری شخصیات کو بھارت کے ابھرتے ہوئے صاف توانائی کے ٹیکنالوجی نظام میں اپنا رول  ادا کرنے کا موقع ملا۔

چوتھی بین الاقوامی گرین ہائیڈروجن کانفرنس نے بھارت کے گرین ہائیڈروجن سے متعلق اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔ کانفرنس میں قابلِ اعتماد ملک میں توانائی کی مانگ  میں اضافہ کی ترقی، طویل مدتی خریداری کے معاہدوں، برآمدات کے مواقع، معیارات اور سرٹیفکیشن، جانچ کے طریقۂ کار اور حفاظتی فریم ورک جیسے اہم موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ایک اہم تجارتی پیش رفت کے طور پر سولر انرجی کارپوریشن آف انڈیا اور روٹرڈیم کی کمپنی پاور ٹو ایکس کے درمیان مفاہمت نامے پر بھی دستخط کئے گئے ، جس کا مقصد بھارت سے عالمی منڈیوں تک گرین مالیکیولز کی فراہمی اور خریداری کو فروغ دینا ہے۔ اس معاہدے کے پہلے مرحلے میں سالانہ 3 لاکھ ٹن گرین میتھانول کی ممکنہ فراہمی کا حجم سامنے آیا ہے، جو ابھرتی ہوئی عالمی گرین مالیکیول مارکیٹ میں بھارت کے لیے بڑھتے ہوئے مواقع کی عکاسی کرتا ہے۔

انٹرنیشنل سولر الائنس کی اسمبلی کے نویں اجلاس نے بین الاقوامی سطح پر شمسی توانائی کے شعبے میں تعاون کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت اختیار کی۔ اسمبلی میں ڈائریکٹر جنرل کی سال 2026 کی رپورٹ، سال 2027 کے لیے عملی منصوبہ  اور بجٹ، سال 2025 کے آڈٹ شدہ حسابات اور مختلف اداروں کو پارٹنر آرگنائزیشن کا درجہ دینے سے متعلق تجاویز پر غور کیا گیا۔ ان اداروں میں افریقی یونین، کومیسہ، سیلکو ، ایس این وی اور آل انڈیا ڈسکامس ایسوسی ایشن شامل ہیں۔

اس موقع پر ایک اہم بین الاقوامی پیش رفت کے طور پر بین الاقوامی شمسی اتحاد  کے تحت 200 ملین امریکی ڈالر کے مجوزہ افریقہ سولر فیسیلٹی کا اعلان کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد افریقی ممالک میں مالی وسائل تک رسائی کو آسان بنانا اور شمسی توانائی کے منصوبوں کے نفاذ میں تیزی لانا ہے۔ مباحثوں میں سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے لیے منصوبوں کو یکجا کرنے، بلینڈڈ فنانس، طویل مدتی سرمایہ کاری، مقامی کرنسی میں مالی معاونت اور ادائیگی سے متعلق خطرات کو کم کرنے جیسے اہم ذرائع کی نشاندہی کی گئی۔اس سلسلے میں افریقہ 50 ڈسٹری بیوٹڈ رینیوایبل انرجی فنڈ اور نائیجیریا ڈی آر ای فنڈ کو مالی معاونت کے اہم ماڈلز کے طور پر اجاگر کیا گیا۔افریقہ 50 ڈسٹری بیوٹڈ رینیوایبل انرجی فنڈ کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ چھوٹے پیمانے کے تقسیم شدہ قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کو درپیش سرمایہ کاری کی رکاوٹوں، بشمول منصوبوں اور ادائیگیوں سے متعلق خطرات، کو علاقائی اور عالمی مالیاتی ڈھانچوں کے امتزاج کے ذریعے دور کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ فرانکوفون اور ساحل انرجی ریزیلینس انیشی ایٹو  کو بھی اجاگر کیا گیا، جس میں درج ذیل اقدامات پر توجہ مرکوز کی گئی ہےاہم بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے شمسی توانائی کے ساتھ توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کی فراہمی۔سرکاری عمارتوں اور عوامی سہولیات پر چھتوں پر شمسی توانائی کے نظام کی تنصیب سمیت  زراعت اور عوام کے ذرائع معاش کو بہتر بنانے کے لیے پیداواری مقاصد کے تحت شمسی توانائی کا استعمال بھی شامل ہے۔

بھارت کی جانب سے زرعی پمپوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے انٹرنیشنل سولر الائنس  نے دنیا بھر میں 10 لاکھ شمسی پمپ نصب کرنے کے اپنے ہدف کو بھی آگے بڑھایا ہے۔ انٹرنیشنل سولر الائنس کے چھوٹے جزیرہ نما ترقی پذیر ممالک  پلیٹ فارم کا مقصد 2030 تک ان ممالک میں 500 میگاواٹ تک شمسی توانائی کی پیداواری صلاحیت فراہم کرنے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ اسی طرح سن رائز فوٹو وولٹک اینڈ بیٹری سرکولیرٹی نیٹ ورک کی توسیع 35 ممالک تک ہو چکی ہے۔

یہ اقدامات عالمی جنوب کے ممالک کی صاف توانائی سے متعلق ضروریات اور عزائم کی تکمیل کے لیے بھارت کے اس طریقۂ کار کی عکاسی کرتے ہیں، جس میں ملکی تجربات، ٹیکنالوجی، مالی معاونت، صلاحیت سازی اور منصوبوں پر عمل درآمد کی صلاحیتوں کو یکجا کیا گیا ہے۔

سمٹ کے دوران آئی ایس اے اکیڈمی اور گلوبل کیپبلیٹی سینٹر- ایس ایچ آئی این ای کا بھی آغاز کیا گیا۔ ان اقدامات کا مقصد صلاحیت سازی، ڈیجیٹل تعلیم اور بجلی کے گرڈ سے متعلق شعبوں میں باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ سمٹ کے دوران مجموعی طور پر 10 مفاہمت ناموں  اور فریم ورک معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن کے ذریعے ٹیکنالوجی، تحقیق، صلاحیت سازی، مینوفیکچرنگ اور منصوبوں پر عمل درآمد کے شعبوں میں باہمی تعاون کو وسعت دی گئی۔

انٹرنیشنل سولر الائنس نے بریک تھرو انرجی وینچرز ، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے انڈیا انرجی اینڈ کلائمیٹ سینٹر اور شنائیڈر الیکٹرک فاؤنڈیشن کے ساتھ فریم ورک معاہدوں پر دستخط کیے۔

اس کے علاوہ آئی ایس اے نے شکتی پمپس (انڈیا) لمیٹڈ  اور ریلوے انرجی مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ سمیت دیگر اداروں کے ساتھ مفاہمت ناموں پر بھی دستخط کیے ۔ یہ معاہدے سمٹ کے دوران اعلان کردہ مختلف شراکت داریوں کا حصہ ہیں۔

بی آر ای سمٹ اینڈ ایکسپو 2026 کے دوران 37 رپورٹس، جائزہ رپورٹس، رہنما کتابچوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے اجرا کے ذریعے بھارت کے قابلِ تجدید توانائی کے نظام کے علمی اور تحقیقی وسائل کو مزید مضبوط بنایا گیا۔

تقریب کے دوران جاری کی گئی اشاعتوں میں پالیسی سازی، مینوفیکچرنگ، منصوبوں کے نفاذ، ہنرمندی کے فروغ اور حفاظتی اقدامات جیسے اہم موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان اشاعتوں سے ان تمام شعبوں میں قابلِ تجدید توانائی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ایز آف ڈوئنگ سولر اور رینیوایبل انرجی اسٹیٹ اسیسمنٹ فریم ورک پالیسی سازوں اور ریاستی حکومتوں کو پیش رفت کا جائزہ لینے اور درپیش رکاوٹوں کی نشاندہی کرنے کے لیے ایک مشترکہ بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح نیشنل ہائیڈروجن سروے گرین ہائیڈروجن کے شعبے میں معلومات اور تحقیق کے دائرے کو مزید وسعت دیتا ہے۔ شمسی توانائی کی مینوفیکچرنگ، ونڈ انرجی میں اندرون ملک تیاری کے فروغ اور بیٹری الیکٹرولائٹ سے متعلق مطالعات سے ان شعبوں کی نشاندہی ہوتی ہے جہاں ملکی پیداواری صلاحیت میں مزید اضافے کی ضرورت ہے اور جہاں صنعتی شعبہ اپنی سپلائی چین کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ قابلِ تجدید توانائی کے حوالے سے 100 آر ای   اضلاع کے لیے اسکلنگ بلیو پرنٹ افرادی قوت کی تیاری اور دستیابی کو منصوبوں کے نفاذ سے منسلک کرتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ اشاعتیں سرمایہ کاروں، منصوبہ سازوں، بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں اور ریاستی اداروں کو بہتر منصوبہ بندی اور فیصلے کرنے کے لیے واضح اور مستند معلومات فراہم کریں گی۔ اس کے علاوہ یہ حکومت، صنعتی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان تال میل کو بہتر بنانے، ملکی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔

اس سمٹ نے عالمی توانائی کے تحفظ، پائیدار ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنا رول  ادا کرتے ہوئے صاف توانائی کے اہداف حاصل کرنے کے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر یہ بھی واضح ہوا کہ بھارت کا قابلِ تجدید توانائی کا سفر اب صرف توانائی کی پیداواری صلاحیت میں اضافے تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کی توجہ مربوط توانائی نظام کی تشکیل، طویل مدتی سرمایہ کاری کو راغب کرنے، اختراعات کو فروغ دینے، ملکی مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانے اور کامیاب تجربات و حل کو دنیا کے ساتھ مشترک کرنے  پر بھی مرکوز ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image001_20261105172047_ccebc1.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image002_20261105172053_0191bc.jpg

 

****

ش ح۔ ش ب۔ خ م

U.NO.7285


(ریلیز آئی ڈی: 2333242) وزیٹر کاؤنٹر : 9