وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

ایشیائی پیرا کھیلوں کے چیمپئنز کے ساتھ ملاقات کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 NOV 2026 6:22PM by PIB Delhi

کابینہ میں میرے ساتھی منسکھ مانڈویہ جی، رکشا کھڈسے جی، پیرا اولمپک کمیٹی آف انڈیا اور نیشنل اسپورٹس فیڈریشن کے تمام نمائندگان، دیگر معزز مہمانان، تمغے جیتنے والے تمام کھلاڑیوں، خواتین و حضرات!

آپ سب سے ملاقات کا مجھے بے صبری سے انتظار تھا۔ چند ہی ہفتے پہلے میں ایشیائی کھیلوں میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں سے ملا تھا اور اب پیرا ایشیائی کھیلوں میں حصہ لینے والے آپ تمام پُرجوش ساتھیوں سے ملاقات کا موقع ملا ہے۔ آپ کی شاندار کارکردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ آج ہندوستان کھیلوں کی دنیا میں تیزی سے ایک بڑی طاقت بن کر ابھر رہا ہے۔ آپ سب نے اس بڑے پلیٹ فارم پر تمغے تو جیتے ہی ہیں، ساتھ ہی کروڑوں ہم وطنوں کے دل بھی جیت لیے ہیں۔ آپ تمام پیرا ایتھلیٹس نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ بلند ترین پرواز حوصلوں کے بل پر ہی ممکن ہوتی ہے۔ میں 140 کروڑ ہم وطنوں کی جانب سے آپ تمام کھلاڑیوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دیتا ہوں۔

آپ کی اس کامیابی میں آپ کے اہل خانہ، ٹرینرز اور کوچز کا بھی اہم کردار ہے، میں ان سب کو بھی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اور میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ ایک عام کھلاڑی کو تیار کرنے کے لیے اس کے کوچ کو جتنی محنت کرنی پڑتی ہے، پیرا اولمپک کھلاڑی کے لیے اس سے کئی گنا زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے، تب کہیں جاکر کامیابی کے رنگ بکھرتے ہیں۔ اس لیے میں ان سب کو خصوصی طور پر مبارک باد دیتا ہوں اور ان کا تہہ دل سے اعتراف کرتا ہوں۔

ساتھیو!

ایک وقت تھا جب بیشتر کھیلوں میں ہندوستان کی شرکت کو محض ایک رسمی کارروائی سمجھا جاتا تھا۔ پیرا کھیلوں میں تو ملک بہت پیچھے تھا۔ 2010 کے پیرا ایشیائی کھیلوں میں ہندوستان نے صرف ایک طلائی تمغہ جیتا تھا۔ مجموعی طور پر اس ٹورنامنٹ میں ہم محض 14 تمغے ہی جیت پائے تھے، صرف چودہ۔ لیکن اس بار ہمارے کھلاڑی 114 تمغے لے کر آئے ہیں۔ ذرا سوچیے، 14 سے 114 تمغوں تک کا یہ سفر آپ کی انتھک محنت اور جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ کھیلوں کے تئیں آپ کی لگن اور ایک مکمل نظام کی تشکیل نے یہ نتائج ممکن بنائے ہیں۔ اس مرتبہ آپ نے 30 طلائی، 35 نقرئی اور 49 کانسے کے تمغے جیتنے کے ساتھ 5 نئے عالمی ریکارڈ اور 9 ایشیائی ریکارڈ بھی قائم کیے ہیں اور پورے ملک کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔ اس بار 56 خاتون کھلاڑیوں میں سے 34 بیٹیوں نے تمغے جیتے ہیں۔ چار مقابلوں میں تو پوڈیم کے تینوں مقامات پر ہمارا ہی پرچم لہرا رہا تھا، تینوں تمغے ہمارے ہی کھلاڑیوں نے حاصل کیے۔ طلائی تمغہ بھی ہندوستان نے جیتا، اسی کھیل میں نقرئی اور کانسے کا تمغہ بھی ہندوستان ہی کے حصے میں آیا۔ مقابلے کے آخری دن بھی آپ نے کمال کردیا تھا اور 9 طلائی تمغے جیت لیے تھے۔ ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے آپ نے طے کرلیا ہو کہ جب تک کھیل جاری رہیں گے، تمغے جیتنے کا سلسلہ نہیں رکنا چاہیے۔

ساتھیو!

اس بار ہمارے کھلاڑیوں نے ایسے مقابلوں میں بھی طلائی تمغے حاصل کیے ہیں جن میں ہندوستان کو اس سے پہلے کبھی کامیابی نہیں ملی تھی۔ مونا اگروال نے پیرا شوٹنگ میں عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ ہنی بھی اپنا ہی سابقہ عالمی ریکارڈ توڑ کر آئے ہیں۔ ہمانشو، روی اور جہان نے اپنی کارکردگی سے دنیا کو دکھا دیا کہ جسمانی چیلنجز پر کس طرح قابو پایا جاسکتا ہے۔

ساتھیو!

کسی کھلاڑی کی انفرادی کامیابی ہو یا ملک کی اجتماعی کامرانی، جیت کی چمک پوری دنیا دیکھتی ہے۔ لیکن اس لمحے تک پہنچنے کے لیے برسوں کی جو محنت درکار ہوتی ہے، دن رات جو پسینہ بہانا پڑتا ہے اور جس غیر متزلزل لگن اور خلوص کے ساتھ ریاضت کرنی پڑتی ہے، کامیابی کی بلند و بالا عمارت اسی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، رنکو جی نے ایشیائی پیرا کھیلوں سے دو ماہ قبل اپنی والدہ کو کھو دیا تھا۔ اتنے بڑے صدمے کے باوجود انہوں نے اپنا حوصلہ برقرار رکھا اور جب آپ نے طلائی تمغہ جیتا تو اپنی والدہ کی تصویر اٹھا کر یہ تمغہ ان کے نام کردیا۔ اس لمحے نے تمام ہم وطنوں کو جذباتی کردیا۔

ساتھیو!

آپ سب کی جدوجہد اور آپ کی کامیابیاں ہر ہندوستانی کے لیے تحریک کا باعث ہیں اور اس سفر میں آپ کا اور ملک کا سفر بھی ایک جیسا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج آپ کی اور ملک کی کوششیں مل کر ایک اور ایک گیارہ بن گئی ہیں۔

ساتھیو!

سال 2014 کے بعد جب ملک نے بڑے اہداف کے حصول کے لیے اپنے اس سفر کا آغاز کیا تھا، اس وقت حالات بالکل مختلف تھے۔ بیشتر والدین اپنے بچوں کو کھیلوں میں بھیجنے سے ڈرتے تھے اور خود بھی خوف محسوس کرتے تھے۔ نظام کی بدحالی، وسائل کی کمی، تعاون کا فقدان اور شفافیت کی کمی جیسے مسائل تھے۔ لوگ کہتے تھے کہ اس نظام کا کچھ نہیں ہوسکتا، یہ ایسے ہی چلتا رہے گا اور سب نے اسے اسی طرح قبول بھی کرلیا تھا۔ لیکن جس طرح آپ نے کسی بھی مشکل کے سامنے ہار نہیں مانی، اسی طرح ملک نے بھی صرف اپنے ہدف پر نگاہ رکھی۔ ہم نے طے کیا کہ اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ اسی لیے ہم نے اس نظام کو ہی بدلنے کا عزم کیا جو آپ جیسے نوجوانوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتا تھا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ کھیلوں کے حوالے سے ایک نیا نقطۂ نظر پیدا ہوا ہے۔ آج اگر کسی نوجوان کو اپنی صلاحیت پر بھروسا ہے تو اسے یہ اعتماد بھی رہتا ہے کہ ملک اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہمارے پیرا کھیل خود اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ جن کھیلوں میں پہلے ہندوستان کی نمائندگی انتہائی محدود ہوا کرتی تھی، اب ان میں ہمارا غلبہ بڑھ رہا ہے۔ تیر اندازی، ایتھلیٹکس، شوٹنگ، تیراکی، ٹیبل ٹینس، بیڈمنٹن، جوڈو، پاور لفٹنگ، ایسے کئی کھیلوں میں نئے نئے نوجوان کھلاڑی سامنے آرہے ہیں۔ ہمیں نئے نئے چیمپئن مل رہے ہیں۔ اس بار بھی ہمارے 61 کھلاڑیوں نے پہلی مرتبہ ایشیائی پیرا کھیلوں میں حصہ لیا، یہ تمام 61 کھلاڑی بالکل نئے تھے۔ ان میں سے پہلی بار شرکت کرنے والے 36 نوجوان تمغے جیت کر واپس آئے ہیں اور سندیپ نے تو اپنے پہلے ہی مقابلے میں عالمی ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ نوجوانوں کی یہ شرکت آج کے ہندوستان کی تصویر بھی ہے اور مستقبل کے ہندوستان کا اعلان بھی۔

ساتھیو!

ہم کھیلوں کو محض چند قومی اور بین الاقوامی مقابلوں کی حیثیت سے نہیں دیکھتے، بلکہ ہمارے نزدیک کھیل شخصیت سازی اور قوم کی تعمیر کا ایک مضبوط ذریعہ بھی ہیں۔ کھیل ہی نوجوانوں کو شکست کے بعد کامیابی حاصل کرنا سکھاتے ہیں اور انہیں نظم و ضبط اور اجتماعی تعاون کا مفہوم سمجھاتے ہیں۔

ساتھیو!

اسی وژن کے تحت ہم ملک کے لیے کھیلوں کا ایک جدید نظام تیار کر رہے ہیں۔ ملک میں اسکولوں اور بنیادی سطح پر کھیلوں کے فروغ کی مہم چلائی جارہی ہے۔ بڑی تعداد میں کھیلو انڈیا مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ ہم نے ٹارگیٹ اولمپک پوڈیم اسکیم (ٹاپس) بھی شروع کی ہے تاکہ کھلاڑیوں کو اولمپک معیار کی تربیت فراہم کی جاسکے۔ اولمپک کو پیش نظر رکھتے ہوئے، اس بار لال قلعے سے میں نے ٹیلنٹ ہنٹ مہم کے تحت نوجوانوں سے آگے آنے کی اپیل بھی کی ہے۔

ساتھیو!

ان کوششوں میں پیرا کھیلوں کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جارہی ہے۔ اس کے نتیجے میں آپ جیسے کھلاڑی نکھر کر سامنے آرہے ہیں اور آج بڑے بڑے مقابلوں میں ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ اس بار کے پیرا کھیلوں میں بھی ہمیں اس کی مثالیں دیکھنے کو ملی ہیں۔ اس مقابلے میں ٹاپس اسکیم سے مدد حاصل کرنے والے کھلاڑیوں نے 41 تمغے جیتے، جب کہ کھیلو انڈیا کے کھلاڑیوں نے 19 تمغے حاصل کیے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری کوششیں درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں۔

ساتھیو!

آج ہندوستان میں کھیلوں کے حوالے سے جدید پالیسیاں میدان سے باہر بھی کھیلوں کی دنیا میں نوجوانوں کے لیے بہت سے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔ کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، کھیلوں کے سازوسامان کی تیاری اور نشریاتی معیشت، ہر شعبے میں ان کا دائرہ وسیع ہورہا ہے۔

ساتھیو!

چند روز قبل ہی حکومت نے تقریباً 1800 کروڑ روپے سے زیادہ کی کھیلو انڈیا کھیلوں کے سامان کی مینوفیکچرنگ اسکیم کو منظوری دی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہماری کھیلوں کا سامان تیار کرنے والی صنعت بھی کچھ نئے کارنامے انجام دے کر دکھائے۔ جب کوئی ہندوستانی یا غیر ملکی کھلاڑی کسی میدان میں اترے تو اس کے کھیلوں کا سازوسامان بھی ’میک اِن انڈیا‘ ہو۔ اس کے لباس اور جوتے بھی ’میک اِن انڈیا‘ ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستان عالمی معیار کے کھلاڑی بھی تیار کرے اور عالمی معیار کا کھیلوں کا سازوسامان بھی بنائے۔ ہندوستان کی کھیلوں کی مصنوعات دنیا بھر کی منڈیوں تک پہنچیں۔ اس سے ہندوستان کے ایم ایس ایم ای شعبے کو نئی طاقت ملے گی اور چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

ساتھیو!

آج کے اس پروگرام کے بعد آپ سب کو اسکولوں، کالجوں اور مختلف اداروں میں بھی مدعو کیا جائے گا، جہاں نوجوان آپ کو سننا اور آپ سے سیکھنا چاہیں گے۔ جب آپ نوجوانوں سے بات کریں تو انہیں میدان میں کامیابی حاصل کرنے کے طریقے ضرور بتائیں، ساتھ ہی میدان سے باہر کھیلوں سے وابستہ مواقع کے بارے میں بھی آگاہ کریں۔ اس کے علاوہ انہیں یہ بھی بتائیں کہ ملک اپنے معذور بھائی بہنوں کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے کتنی بڑی کوششیں کر رہا ہے۔ ابھی چند روز قبل ہی کابینہ نے معذور افراد کی پنشن کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ ہم نے پنشن کی رقم میں اضافہ کیا ہے۔ معذوری کی جو حد پہلے 80 فیصد تھی، اسے گھٹا کر 40 فیصد کردیا ہے۔ پہلے پنشن حاصل کرنے کے لیے 18 سال کی عمر ہونا ضروری تھا، لیکن اب پیدائش ہی سے اہل معذور بچوں کے لیے بھی پنشن کا راستہ کھول دیا گیا ہے۔ اسی طرح ہندوستانی اشاروں کی زبان (انڈین سائن لینگویج) کو فروغ دینے کے لیے بھی بڑے پیمانے پر کوششیں کی گئی ہیں۔ 10 ہزار سے زیادہ الفاظ پر مشتمل اشاروں کی زبان کی لغت تیار کی گئی ہے۔ اسکول کی کتابیں بھی اشاروں کی زبان میں دستیاب کرائی جارہی ہیں۔ سگمیہ بھارت ابھیان کے ذریعے عوامی مقامات کو معذور افراد کے لیے سازگار بنایا گیا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ملک کے ہر معذور فرد، ہر معذور بھائی اور بہن کو عزت و احترام کے ساتھ ساتھ مساوی مواقع بھی حاصل ہوں، تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کے بل پر زندگی میں آگے بڑھ سکیں۔

ساتھیو!

آئیچی-ناگویا کا پوڈیم آپ کے سفر کا آخری پڑاؤ نہیں ہے، یہ بات اپنے ذہن میں رکھیے۔ آپ کو اس کامیابی کو مزید بڑے اہداف کے حصول کے لیے ایک نئی شروعات کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ ہندوستان اور آپ میں سے بیشتر کھلاڑیوں کا اگلا ہدف ہے: ایل اے، یعنی لاس اینجلس 2028! اونی اور منیش نے تو لاس اینجلس میں اپنی جگہ بھی یقینی بنا لی ہے۔ ہمارا ہدف ہونا چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں ہندوستانی کھلاڑی لاس اینجلس 2028 میں حصہ لیں اور زیادہ سے زیادہ تمغے جیت کر واپس آئیں۔ اس لیے آپ سب اس لمحے کو بھرپور طریقے سے منائیں، لیکن ابھی سے اگلے مرحلے کی تیاریوں میں بھی جٹ جائیں۔ ملک آپ کے ساتھ ہے اور میں تو ہوں ہی۔ پورا ملک آپ کی اگلی کامیابی کا منتظر ہے۔ آپ سب کو ایک بار پھر بہت بہت مبارک باد اور ڈھیروں نیک تمنائیں۔

دیوالی کا عظیم تہوار شروع ہوچکا ہے۔ اس بار آپ سب پورے جوش و خروش اور شان و شوکت کے ساتھ دیوالی منائیں، لیکن دیوالی کے دوران ہی اپنے اگلے پڑاؤ کا ہدف بھی ذہن میں طے کرلیں اور نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھیں۔ میری جانب سے آپ سب کو بہت بہت نیک خواہشات۔

بہت بہت شکریہ۔

 

******

ش ح۔ ف ا ۔ م ر

U-NO. 7289

 


(ریلیز آئی ڈی: 2333262) وزیٹر کاؤنٹر : 10