پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 NOV 2026 6:44PM by PIB Delhi
کوئلہ اور کان کنی کے مرکزی وزیر جناب جی کشن ریڈی نے گوا میں کان کنی اور کوئلہ شعبے میں اصلاحات سے متعلق وزرائے کان کنی کی چوتھی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں ہندوستان کے کوئلہ اور کان کنی کے شعبوں کے تبدیلی کے سفر پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلسل اصلاحات کے نتیجے میں شفافیت، کارکردگی اور پیشہ ورانہ مہارت میں اضافہ ہوا ہے، جس سے قومی اقتصادی ترقی اور توانائی کے تحفظ میں ان شعبوں کا تعاون مزید مستحکم ہوا ہے۔
کوئلہ شعبے کی ترجیحات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے جناب جی کشن ریڈی نے ہندوستان کے وافر کوئلہ وسائل کے بہترین استعمال کے لیے کوئلے سے گیس کی تیاری (کول گیسیفیکیشن) کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ملک میں دستیاب کوئلے کی اقتصادی قدر سے بھرپور استفادہ کرنے، صنعتی تنوع کو فروغ دینے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ملک کی طویل مدتی توانائی کی سلامتی کو مستحکم بنانے کی وسیع صلاحیت موجود ہے۔

عالمی جغرافیائی و سیاسی منظرنامے میں اہم معدنیات (کریٹیکل منرلز) کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر موصوف نے ملک میں ان معدنیات کی تلاش، کان کنی، پروسیسنگ، ریفائننگ اور ری سائیکلنگ کی صلاحیتوں کو مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ درآمدات پر انحصار کم کرنے اور ہندوستان کی تزویراتی و اقتصادی مضبوطی کو فروغ دینے کے لیے معدنیات کا خود کفیل نظام تیار کرنا ناگزیر ہے۔
ٹیکنالوجی کے تبدیلی لانے والے کردار پر زور دیتے ہوئے جناب ریڈی نے ریاستی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ معدنیات کی تلاش، کانوں کے آپریشن اور معدنیات کے حصول کے تمام مراحل میں مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیجیٹلائزیشن اور جدید تکنیکی حل سے بھرپور استفادہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی طریقہ کار سے کان کنی اور کوئلہ شعبوں میں پیداواری صلاحیت، عملیاتی کارکردگی اور پائیداری کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
وزیر موصوف نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ نیلام کی جا چکی کانوں کو جلد از جلد فعال کریں، نئے بلاک کی نیلامی کے عمل میں تیزی لائیں، معدنیات کی تلاش کی سرگرمیوں کو وسعت دیں اور اپنے معدنی وسائل کی مکمل صلاحیت سے استفادہ کرنے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی طریقہ کار اپنائیں۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ کان کنی کے شعبے میں اصلاحات نے ریاستی معیشتوں کو مستحکم کیا ہے، سرمایہ کاری کو راغب کیا ہے، روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں اور آمدنی میں اضافہ کیا ہے، جبکہ کان کنی سے متاثرہ علاقوں کی ترقی کو بھی فروغ دیا ہے۔
تعاونی وفاقیت کے جذبے کا اعادہ کرتے ہوئے جناب جی کشن ریڈی نے ہندوستان کے معدنیات اور کوئلے کے وسائل کی مکمل صلاحیت سے استفادہ کرنے، کان کنی کے نظام کو مستحکم بنانے اور پائیدار و جامع ترقی کو یقینی بنانے کے لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان مزید مضبوط تال میل پر زور دیا۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اجتماعی کوششوں اور مشترکہ لائحہ عمل کے ذریعے ہندوستان کے کان کنی اور کوئلہ شعبے نئی بلندیوں تک پہنچیں گے اور وکست بھارت 2047 کے وژن کی تکمیل میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت برائے کوئلہ و کان کنی جناب ستیش چندر دوبے نے کہا کہ کان کنی کا شعبہ ملک کی اقتصادی ترقی، صنعتی پیش رفت اور توانائی کی سلامتی کا ایک اہم ستون ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت کی جانب سے کی جانے والی وسیع تر اصلاحات کو اجاگر کیا، جن میں شفاف نیلامی کے عمل، سرمایہ کاری کے فروغ، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور کان کنی کی سرگرمیوں میں تیزی لانے کی کوششیں شامل ہیں۔
انہوں نے پائیدار اور ذمہ دارانہ کان کنی، ماحولیات کے تحفظ، کانوں کی بحالی اور کان کنی سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والی برادریوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کان کنی کے کاموں کے آغاز ہی سے کان کنی کے بعد بحالی کے منصوبوں اور مقامی برادریوں کے لیے متبادل ذرائع معاش پیدا کرنے کے اقدامات کو شامل کیا جانا چاہیے، تاکہ ترقی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی اور سماجی مفادات کا بھی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے محفوظ اور جدید کان کنی کی ٹیکنالوجیز، کوئلے سے گیس کی تیاری، کوئلے کے استعمال میں اختراعات اور فرسٹ مائل کنیکٹیویٹی (ابتدائی مرحلے میں کوئلے کی ترسیل کے رابطہ نظام) جیسے اقدامات کو فروغ دیتے ہوئے کوئلے کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے تجربات اور بہترین طریقہ ہائے کار ایک دوسرے کے ساتھ مشترک کریں اور کان کنی کے شعبے کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزارت کوئلہ کے سکریٹری جناب وکرم دیو دت نے ہندوستان کے کوئلہ شعبے میں ہونے والی نمایاں پیش رفت اور ملک کی توانائی کی سلامتی کو مستحکم بنانے اور اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے میں اس کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں کوئلے کی گھریلو پیداوار مسلسل دوسرے سال ایک ارب ٹن سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنے اور درآمد شدہ کوئلے پر انحصار کم کرنے کی جانب ہندوستان کے سفر کی ایک اہم کامیابی ہے۔

جناب وکرم دیو دت نے کوئلہ شعبے کو مزید مسابقتی، شفاف، مؤثر اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار بنانے کی غرض سے مسلسل ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی اہمیت پر زور دیا۔ کمرشیل کول مائننگ، نظرثانی شدہ شکتی فریم ورک (شکتی) اور کول سیتو جیسے اہم اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شراکت داری کو فروغ دینے، طریقہ کار کو آسان بنانے اور کوئلے کی کانوں کو جلد از جلد فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کوئلے سے گیس کی تیاری (کول گیسیفیکیشن) کو اضافی قدر پیدا کرنے، صنعتی تنوع کو فروغ دینے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ایک اہم موقع قرار دیا۔ انہوں نے کوئلہ پیدا کرنے والی ریاستوں پر زور دیا کہ وہ سرمایہ کاری کو فعال طور پر فروغ دیں، بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں تعاون کریں اور اس شعبے کی وسیع تر صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کے لیے منصوبوں پر عمل درآمد میں تیزی لائیں۔
ٹیکنالوجی، ڈیجیٹلائزیشن، پائیدار کان کنی کے طریقہ کار اور مؤثر لاجسٹکس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے سکریٹری نے ہندوستان کے کوئلہ اور معدنی وسائل کی مکمل صلاحیت سے استفادہ کرنے کے لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان مزید مضبوط تعاون کی اپیل کی۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کوئلہ شعبے کی ترقی کے اگلے مرحلے میں محض کوئلے کے استخراج تک محدود رہنے کے بجائے اس کی اضافی قدر پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے، تاکہ یہ شعبہ صنعتی ترقی، ریاستوں کی آمدنی میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور وکست بھارت کے وژن کی تکمیل میں ایک محرک کا کردار ادا کر سکے۔

کانفرنس کے دوران وزارت کوئلہ کی ایڈیشنل سکریٹری محترمہ روپندر برار نے ایک تفصیلی اور جامع پریزنٹیشن پیش کی، جس میں کوئلہ شعبے میں حال ہی میں کی گئی اصلاحات، کاروبار کرنے میں آسانی (ایز آف ڈوئنگ بزنس) کو بہتر بنانے میں ان کے کردار اور ریاستوں سے متعلق اہم چیلنجوں اور توقعات پر روشنی ڈالی گئی۔ پریزنٹیشن میں بتایا گیا کہ یہ اصلاحات طریقہ کار کو آسان بنانے، شفافیت میں بہتری لانے، سرمایہ کاری کو سہولت فراہم کرنے اور متعلقہ فریقوں کے لیے زیادہ سازگار کاروباری ماحول پیدا کرنے میں کس طرح معاون ثابت ہو رہی ہیں۔ اس میں ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے اور اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کے لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان مضبوط تر تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ یہ اقدامات ایک زیادہ مؤثر، مسابقتی اور پائیدار کوئلہ شعبے کی راہ ہموار کر رہے ہیں، جس سے ہندوستان کی توانائی کی سلامتی اور اقتصادی ترقی کو تقویت مل رہی ہے۔
حکومت ہند کی وزارت کان کنی نے 5 اور 6 نومبر 2026 کو گوا میں کان کنی کے وزراء کی چوتھی کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں مختلف ریاستوں کے وزرائے کان کنی اور مرکزی و ریاستی حکومتوں کے سینئر عہدیداروں نے شرکت کی۔ اس کانفرنس نے کان کنی کے شعبے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال اور خیالات کے تبادلے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اس دوران شعبے میں ہونے والی پیش رفت، مواقع اور چیلنجوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ ریاستوں کو اپنے تجربات، اقدامات اور بہترین طریقہ ہائے کار ایک دوسرے کے ساتھ مشترک کرنے کی ترغیب دی گئی۔
کان کنی کے وزراء کی چوتھی کانفرنس میں ہونے والی بات چیت سے ہندوستان کے کوئلہ شعبے کو مستحکم بنانے کے لیے مسلسل اصلاحات اور مرکزی و ریاستی حکومتوں کے درمیان مربوط کوششوں کی اہمیت کی توثیق ہوئی۔
کوئلے سے گیس کی تیاری کے عمل کو تیز کرنے، کمرشیل کول مائننگ کو فروغ دینے، جدید ٹیکنالوجیز سے استفادہ کرنے، سرمایہ کاری کو سہولت فراہم کرنے اور پائیدار کان کنی کے طریقہ کار کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے وزارت کوئلہ ہندوستان کے گھریلو کوئلہ وسائل کی مکمل صلاحیت سے استفادہ کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ اضافی قدر پیدا کرنے، عملیاتی کارکردگی، نجی شعبے کی شراکت داری اور تعاونی وفاقیت پر دی جانے والی توجہ ہندوستان کے کوئلہ شعبے کو صنعتی ترقی، توانائی کی سلامتی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور اقتصادی ترقی کے ایک اہم محرک کے طور پر مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
********
ش ح۔ ف ش ع
U: 7295