پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 NOV 2026 2:54PM by PIB Delhi
اس قومی ہدف کے تئیں غیر معمولی ادارہ جاتی عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے، محکمۂ مالیاتی خدمات نے اپنے انتظامی کنٹرول کے تحت کام کرنے والے اداروں کی تمام نشان زد اور شمسی توانائی کے نظام کی تنصیب کے لیے موزوں عمارتوں پر 100 فیصد شمسی توانائی کے نظام نصب کرنے کا ہدف کامیابی سے حاصل کر لیا ہے۔ مجموعی طور پر 4,144 عمارتوں کا جائزہ لینے کے بعد، تکنیکی اور ڈھانچہ جاتی موزونیت کے جائزے کی بنیاد پر، 2,576 عمارتوں کو شمسی توانائی کے نظام کی تنصیب کے لیے موزوں قرار دیا گیا۔ اس جائزے میں چھتوں تک رسائی کے حقوق، عمارتوں کی ملکیت، سایہ پڑنے کی صورتِ حال اور وزن برداشت کرنے کی صلاحیت جیسے عوامل کو ملحوظ نظر رکھا گیا۔ محکمۂ مالیاتی خدمات کے تحت کام کرنے والے اداروں نے ان تمام 2,576 موزوں عمارتوں میں چھتوں پر شمسی توانائی کے فوٹو وولٹائک بجلی گھر مکمل طور پر نصب کرکے فعال کر دیے ہیں، جن سے مجموعی طور پر 61.50 میگاواٹ ماحولیات کے ساز گار توانائی کی پیداواری صلاحیت حاصل ہوئی ہے۔
اس اہم کامیابی کے پیش نظر محکمۂ مالیاتی خدمات کو 5 نومبر 2026 کو نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ’’مرکزی وزارتوں اور محکموں کی جانب سے شمسی توانائی کے نظام سے آراستہ کی جانے والی عمارتوں کی سب سے زیادہ تعداد‘‘ کے زمرے میں ’پی ایم سوریہ گھر ایکسی لینس ایوارڈ‘ (دوسری پوزیشن) سے نوازا گیا۔

نائب صدرِ جمہوریہ ہندنے یہ ایوارڈ پی ایم سوریہ گھر ایکسی لینس ایوارڈز تقریب کے دوران پیش کیا۔ یہ تقریب بھارت قابلِ تجدید توانائی سربراہ اجلاس و نمائش 2026 (بی آر ای سمٹ) کے اختتامی اجلاس کے موقع پر منعقد ہوئی۔ اس سربراہ اجلاس کا اہتمام نئی اور قابلِ تجدید توانائی کی وزارت نے بین الاقوامی شمسی اتحاد (آئی ایس اے) کی نویں جنرل اسمبلی اور گرین ہائیڈروجن پر چوتھی بین الاقوامی کانفرنس (آئی سی جی ایچ) کے ساتھ کیا تھا۔
پی ایم سوریہ گھر ایکسی لینس ایوارڈ سے نوازا جانا، بھارت کے وسیع تر صفر کاربن اخراج کے عہد کو پورا کرنے میں محکمۂ مالیا تی خدمات کے پختہ عزم اور اس کی مسلسل خدمات کو اجاگر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بنیادی ڈھانچے کے ذریعے پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں مالیاتی اداروں کے فعال کردار کو بھی تقویت بخشتا ہے۔
***
) ش ح –م ع-ق ر)
U.No. 7337