پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 NOV 2026 4:22PM by PIB Delhi
کان کنی کے وزراء کی چوتھی کانفرنس گوا میں اختتام کو پہنچی۔ کانفرنس کے دوسرے روز کان کنی کے شعبے کی ترقی سے متعلق اہم ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر تلنگانہ، مغربی بنگال، کرناٹک، راجستھان، اتر پردیش، آندھرا پردیش اور کیرالہ سمیت مختلف ریاستوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ان ریاستوں کے نمائندوں نے اہم مسائل کو اجاگر کیا، اپنے تجربات بیان کیے اور کان کنی کے شعبے کو درپیش چیلنجز اور اس میں موجود مواقع پر تبادلۂ خیال کیا۔

کوئلہ و کانکنی کے مرکزی وزیر جناب جی کشن ریڈی نے معدنی ذخائر کی تلاش کے عمل میں تیزی لانے کے لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اہم معدنیات (کریٹیکل منرلز)کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر اس عمل کو تیز کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کان کنی کے ذریعے ریاستوں کی آمدنی میں اضافے، کانوں کی بہتر منصوبہ بندی اور کانوں کی بندش کے مؤثر طریقۂ کار کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔کوئلہ و کانکنی کےوزیر مملکت جناب ستیش چندر دوبے نے کان کنی کے منصوبوں کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے اور ملک کو معدنیات کے معاملے میں خود کفیل بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ریاستوں کی مشترکہ کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

کانکنی کی وزارت کے سکریٹری جناب کیشو چندر نے کہا کہ وزارت نے کانفرنس میں شریک ریاستوں کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل اور پیش کردہ تجاویز کا نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بہتر باہمی رابطہ کاری اور بروقت مسائل کے حل کے ذریعے، بالخصوص تاخیر اور طریقۂ کار سے متعلق رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

کانفرنس کا دوسرا روز اور مجموعی اجلاس خوشگوار اور مثبت ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔ اس موقع پر مرکز اور ریاستوں کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے، اہم مسائل اور چیلنجز کو حل کرنے اور وِکست بھارت 2047 کے وژن کے مطابق ہندوستان کے کان کنی کے شعبے کی ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

***
ش ح۔ م م ۔م ذ
U.No: 7342