پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 NOV 2026 4:18PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے نظریے اور رہنمائی سے تحریک حاصل کرتے ہوئے اور عملے کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ کی رہنمائی میں، سرکاری دفاتر میں صفائی ستھرائی کو ادارہ جاتی شکل دینے اور زیر التوا معاملات کو کم سے کم کرنے کے لیے شروع کی گئی خصوصی مہم 6 کے تحت اہم پیمانوں پر اب تک کی سب سے بڑی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ 2021 میں سالانہ خصوصی مہم کے آغاز کے بعد سے یہ اب تک کی سب سے نمایاں کامیابیاں ہیں۔
یہ مہم 2 اکتوبر سے 31 اکتوبر 2026 تک چلائی گئی، جس کے لیے انتظامی اصلاحات اور عوامی شکایات کا محکمہ (ڈی اے آر پی جی) نوڈل محکمہ تھا۔ اس مہم میں ملک بھر کی وزارتوں اور محکموں نے سرگرمی سے حصہ لیا اور اس کا دائرہ دفاتر، فیلڈ میں قائم اداروں اور عوامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں تک وسیع کیا گیا۔
خصوصی مہم 6 کے پورٹل پر وزارتوں اور محکموں کی جانب سے فراہم کردہ تازہ ترین مجموعی اعداد و شمار کے مطابق، صفائی ستھرائی کی مجموعی طور پر 19,88,826 مہم انجام دی گئیں، جو گزشتہ سال کی 11,59,783 مہم کے مقابلے میں تقریباً 71 فیصد زیادہ ہیں۔ الیکٹرانک کباڑ سمیت دیگر کباڑ کو ٹھکانے لگانے سے 970.33 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی، جو خصوصی مہم 5.0 کے مقابلے میں تقریباً 16 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ، 277.82 لاکھ مربع فٹ دفترکی جگہ کو خالی کرایا گیا، جسے مفید مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ یہ گزشتہ مہم کے مقابلے میں تقریباً 19 فیصد کا اضافہ ہے۔
اس مہم کے دوران زیر التوا معاملات کو کم کرنے اور انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانے کے سلسلے میں بھی نمایاں پیشرفت درج کی گئی۔ مجموعی طور پر 9,99,168 عوامی شکایات کا ازالہ کیا گیا، جبکہ 40,878 عوامی شکایات سے متعلق اپیلوں کو نمٹایا گیا۔ وزارتوں اور محکموں نے 26,79,875 کاغذی فائلوں کا جائزہ لیا اور ان میں سے 15,76,828 فائلوں کو تلف کیا۔ ڈیجیٹل شعبے میں 9,58,864 الیکٹرانک فائلوں کا جائزہ لیا گیا اور 7,01,723 الیکٹرانک فائلوں کو بند کیا گیا۔ یہ مؤثر، کاغذ سے پاک اور شہریوں پر مرکوز انتظامیہ کے تئیں حکومت کے عزم کو مزید مستحکم کرتا ہے۔
اہم اشاریوں پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ادارے
نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے والے اداروں میں، کباڑ کو ٹھکانے لگا کر آمدنی حاصل کرنے کے معاملے میں وزارتِ ریلوے (ریلوے بورڈ) سرفہرست رہی، جس نے 618.06 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی۔ اس کے بعد محکمۂ فوجی امور نے 88.96 کروڑ روپے، وزارتِ کوئلہ نے 61.41 کروڑ روپے اور وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس نے 34.81 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی۔
صفائی ستھرائی کے مقامات کی تعداد کے معاملے میں محکمہ برائے اسکولی تعلیم و خواندگی سرفہرست رہا، جس نے اسکولوں میں 7.01 لاکھ سے زائد صفائی مہم انجام دیں۔ اس کے بعد خواتین اوربچوں کی بہبود کی وزارت کا مقام رہا، جس نے مذکورہ مہم کے دوران 6.52 لاکھ آنگن واڑی مراکز اور وزارت کے دیگر اداروں میں مختلف سرگرمیاں انجام دیں۔ محکمۂ صحت و خاندانی بہبود نے 1.62 لاکھ سے زائد، محکمۂ ڈاک نے 1.35 لاکھ سے زائد اور محکمۂ مالیاتی خدمات نے بینکوں اور بیمہ کمپنیوں میں 1.20 لاکھ سے زائد مقامات پر صفائی مہم انجام دیں۔ ان اداروں نے اب تک کی سب سے بڑی خصوصی مہم کو کامیاب بنانے میں نمایاں تعاون کیا۔
تخلیقی اور تعمیری استعمال کے لیے جگہ خالی کرانے کے معاملے میں وزارتوں کے درمیان وزارتِ کوئلہ سرفہرست رہی، جس نے 1.48 کروڑ مربع فٹ سے زائد جگہ خالی کرائی۔ اس کے بعد بھاری صنعتوں کی وزارت نے 50.19 لاکھ مربع فٹ سے زائد اور محکمۂ دفاعی پیداوار نے اپنے مختلف اداروں میں 19.34 لاکھ مربع فٹ جگہ خالی کرائی۔
وزارتِ ریلوے (ریلوے بورڈ) نے مہم کے دوران 2.69 لاکھ سے زائد عوامی شکایات کا ازالہ کیا۔ اس کے بعد وزارتِ محنت و روزگار نے 2.42 لاکھ، محکمۂ ڈاک نے 1.50 لاکھ اور محکمۂ امورِ صارفین نے 1.01 لاکھ شکایات کو نمٹایا۔
وزارتوں نے قواعد و ضوابط اور طریقۂ کار کو آسان بناکر مجموعی طور پر 983 طریقۂ کار کی نشاندہی کی، جن میں محکمۂ فوجی امور سرفہرست رہا۔
الیکٹرانک کباڑ کا سائنسی انتظام
گزشتہ مہم کے دوران الیکٹرانک کباڑپر دی گئی توجہ کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے، خصوصی مہم 6 میں الیکٹرانک کباڑکے مؤثر جمع کرنے، الگ الگ کرنے اور الیکٹرک کباڑ کے انتظام سے متعلق قواعد وضوابط 2022 کے مطابق اسے سائنسی طریقے سے ٹھکانے لگانے پر خصوصی زور دیا گیا۔
انتظامی اصلاحات اور عوامی شکایات کے محکمے (ڈی اے آر پی جی)، ماحولیات، جنگلات اور آب وہوا کی تبدیلی کی وزارت، آلودگی کنٹرول کے مرکزی بورڈ، آلودگی کنٹرول کے ریاستی بورڈز اور ری سائیکلنگ کی صنعت کی مشترکہ کوششوں کے ذریعے ایک منظم نظام وضع کیا گیا، جس کے تحت سرکاری دفاتر کو مجاز ری سائیکلرز، تجدید کاروں اور پیداواری اداروں سے منسلک کرنے میں سہولت فراہم کی گئی۔
اس مہم کے دوران کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں گورنمنٹ ای - مارکیٹ پلیس (جی ای ایم) پر درج شدہ ری سائیکلرز، تجدید کاروں اور پیداواری اداروں کی تعداد بھی 38 سے بڑھ کر 200 سے زیادہ ہو گئی، جس سے الیکٹرانک کباڑ کے ذمہ دارانہ انتظام کے لیے ادارہ جاتی نظام مزید مستحکم ہوا۔
مہم کے دوران وزارتوں اور محکموں نے الیکٹرانک کباڑ کے کی اشیا کو ٹھکانے لگا کر تقریباً 50 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی۔
محکمہ برائے اسکولی تعلیم اور خواندگی نے اسکولوں سے الیکٹرانک کباڑ کی 58 لاکھ سے زائد اشیاءجمع کیں، جبکہ اس کا ہدف صرف 5 لاکھ اشیاء جمع کرنا تھا۔ یہ اس کے وسیع میدانی نیٹ ورک کے ذریعے چلائی گئی عوامی بیداری کی سرگرمیوں کے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔
وزارتِ ریلوے نے بھی اس سلسلے میں نمایاں تعاون کیا اور الیکٹرانک کباڑ کو ٹھکانے لگا کر 10.43 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی۔
حکومت کی تمام وزارتوں اور محکموں کی مشترکہ شرکت
خصوصی مہم 6 کی ایک نمایاں خصوصیت ایک روزہ خصوصی تقریب کا آغاز تھا، جس کے تحت منتخب وزارتوں اور محکموں نے ایک مقررہ دن اپنے تمام فیلڈ دفاتر اور اداروں میں باہمی تال میل کے ساتھ صفائی ستھرائی اور کباڑ کے انتظام سے متعلق سرگرمیاں انجام دیں۔ حکومتِ ہند کی مجموعی طور پر 27 وزارتوں اور محکموں نے اس طرح کی مہم منعقد کی، جن کے دائرے میں 2,40,156 فیلڈ دفاتر شامل تھے۔
صفائی ستھرائی کے اہم مقصد کے تئیں عوامی بیداری پیدا کرنا
اس مہم کے دوران عوامی رابطے کی وسیع سرگرمیاں انجام دی گئیں۔ وزارتوں اور محکموں نے ایک لاکھ سے زائد سوشل میڈیا پوسٹس جاری کیں، جبکہ خصوصی مہم 6 کے دوران ڈیجیٹل ذرائع سے 1.86 کروڑ لوگوں نے ان سرگرمیوں میں حصہ لیا اور ان پوسٹس کی رسائی اور نمائش 9.25 کروڑ تک رہی۔ اس کے علاوہ، مہم کی تیاری اور نفاذ کے مراحل کے دوران اب تک پی آئی بی کی جانب سے 227 ریلیز جاری کی جا چکی ہیں۔
خصوصی مہم: سووچھتا کو ادارہ جاتی شکل دینا، ای- گورننس اور زیر التوا معاملات کو کم کرنا
خصوصی مہم 6 نے صفائی ستھرائی کو ادارہ جاتی شکل دینے، انتظامی سطح پر زیر التوا معاملات کو کم کرنے، کباڑ کے سائنسی انتظام کو فروغ دینے اور عوامی وسائل کے بہترین استعمال کو یقینی بنانے کے تئیں حکومت کے عزم کو مزید مستحکم کیا ہے۔
وزارتوں اور محکموں کی جانب سے اپنائے گئے اختراعی طریقے، پائیدار دفتری انتظام اور شہریوں پر مرکوز حکمرانی کے لیے قابلِ تقلید نمونے پیش کرتے ہیں۔
کامیابیوں کے اعداد و شمار خصوصی مہم 6 کے پورٹل پر وزارتوں اور محکموں کی جانب سے پیش کی گئی مجموعی رپورٹوں پر مبنی ہیں اور جائزے کے مرحلے کے دوران حتمی توثیق سے مشروط ہیں۔
***
) ش ح –م ع-ق ر)
U.No. 7343