پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 NOV 2026 4:47PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، نیز وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج ملک گیر ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ (ڈی ایل سی) مہم 5.0 کا آغاز کیا۔ مہم کے پہلے پانچ دنوں میں تقریباً 40 لاکھ ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران یہ تعداد تقریباً 25 لاکھ تھی۔ اس طرح سرٹیفکیٹس کے اجرا میں 60 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔
اسی مدت کے دوران چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیق (فیس آتھنٹیکیشن) کے استعمال کی شرح 61 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 80 فیصد تک پہنچ گئی، جو پنشن یافتگان کے درمیان ٹیکنالوجی پر مبنی پنشن خدمات پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس مہم کو ملنے والا غیر معمولی عوامی ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ ڈیجیٹل اختراع کس طرح پنشن یافتگان کی زندگی کو آسان بنا رہی ہے اور بزرگ شہریوں کے لیے حکومتی خدمات کو مزید قابلِ رسائی، سہل اور باوقار بنا رہی ہے۔
نئی دہلی کے نیشنل میڈیا سینٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ مہم بتدریج ایک ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس میں سرکاری محکمے، پنشن تقسیم کرنے والے بینک، پنشن یافتگان کی انجمنیں اور ان کے اہلِ خانہ مل کر پنشن سے متعلق خدمات کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس موقع پر پنشن و پنشن یافتگان کی فلاح و بہبود کے محکمہ کی سکریٹری محترمہ نویدیتا شکلا ورما، ریلوے بورڈ کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب ستیش کمار، محکمہ ڈاک کے سکریٹری جناب سبرت داس، کنٹرولر جنرل آف ڈیفنس اکاؤنٹس محترمہ الکا نانگیا اروڑا، کنٹرولر جنرل آف کمیونیکیشن اکاؤنٹس محترمہ وندنا گپتا، یو آئی ڈی اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب سوربھ وجے اور پریس انفارمیشن بیورو کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل جناب نندا کشور ریڈی سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس مہم کا بنیادی مقصد بزرگ شہریوں کے لیے زندگی کو آسان بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے بدلتے ہوئے آبادیاتی اور سماجی و اقتصادی حالات کے پیش نظر پنشن یافتگان معاشرے کا ایک اہم طبقہ بنتے جا رہے ہیں۔ اب مرکزی حکومت کے پنشن یافتگان کی تعداد تقریباً 70 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ملازمت کرنے والے ملازمین کی تعداد تقریباً 50 لاکھ ہے۔ اس کے برعکس، پہلے صورتِ حال یہ تھی کہ ملازمت کرنے والے ملازمین کی تعداد تقریباً 55 سے 60 لاکھ اور پنشن یافتگان کی تعداد لگ بھگ 50 لاکھ تھی۔
وزیر موصوف نے کہا کہ اوسط عمر میں اضافے اور صحت کی بہتر صورتِ حال نے ایک نیا موقع فراہم کیا ہے کہ بزرگ شہریوں کے تجربے، مہارت اور صلاحیتوں سے قومی تعمیر و ترقی کے لیے بھرپور استفادہ کیا جائے۔ بہت سے ملازمین 60 سال کی عمر میں اس وقت سبک دوش ہوتے ہیں جب وہ صحت، تجربے اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے اعتبار سے اپنی بہترین حالت میں ہوتے ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے وِکست بھارت (ترقی یافتہ ہندوستان) کے وژن کے تناظر میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بزرگ شہریوں کو آرام و آسائش، صحت اور مالی تحفظ فراہم کرکے قومی تعمیر و ترقی کے عمل میں فعال طور پر شریک کیا جانا چاہیے، تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو ملک کی تعمیری سرگرمیوں کے لیے بروئے کار لا سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی ترقی کے سفر میں نوجوان اور بزرگ نسلوں کے درمیان صحت مند ہم آہنگی اور اشتراکِ عمل کو فروغ دینا ضروری ہے۔
ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ کے ارتقا کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ابتدا میں حکومت روایتی طریقے سے حاصل کیے جانے والے لائف سرٹیفکیٹس پر انحصار کرتی تھی۔ اس کے بعد فنگر پرنٹس کے ذریعے بایومیٹرک تصدیق کا طریقہ متعارف کرایا گیا، جبکہ بعد ازاں بزرگ پنشن یافتگان کو درپیش مشکلات کے پیش نظر چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیق کی ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی ایک آسان اور قابلِ رسائی سہولت کے طور پر سامنے آئی ہے، جس کے ذریعے پنشن یافتگان بینکوں یا سرکاری دفاتر جائے بغیر اپنے موبائل فون سے ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ تیار کر سکتے ہیں۔ وزیر موصوف نے بتایا کہ گزشتہ سال جاری کیے گئے 1.92 کروڑ ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹس میں سے تقریباً 1.17 کروڑ چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیق کے بعد جاری کیے گئے، جو پنشن یافتگان میں اس ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ترجیح کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ مہم بتدریج ’’مکمل حکومتی اشتراک‘‘ (ہول آف گورنمنٹ)اور ’’پورے معاشرے کی شمولیت‘‘ (ہول آف سوسائٹی)پر مبنی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس میں ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ بنوانے میں پنشن یافتگان کی فلاح و بہبود کے لیے قائم انجمنیں اور اہلِ خانہ بھی سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کا اپنے دادا دادی اور نانا نانی کو ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ بنانے میں مدد دینا ٹیکنالوجی کے استعمال کو خاندان کے لیے ایک دلچسپ اور خوش گوار تجربہ بنا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بزرگ شہریوں کو ڈیجیٹل ذرائع اور خدمات سے روشناس ہونے کا موقع بھی مل رہا ہے۔ ان کے مطابق، اس مہم کو ملنے والی بڑھتی ہوئی پذیرائی اس بات کی عکاس ہے کہ شہریوں پر مرکوز طرزِ حکمرانی کو فروغ دینے کے لیے سرکاری ادارے، پنشن یافتگان اور معاشرہ اجتماعی طور پر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیر موصوف نے پنشن و پنشن یافتگان کی فلاح وبہبود کے محکمہ کی جانب سے پنشن سے متعلق کی جانے والی متعدد اصلاحات کا بھی ذکر کیا۔ ان میں طویل عرصے سے زیرِ التوا معاملات کے حل کے لیے پنشن عدالتوں کا انعقاد، سی پی ای این جی آر اے ایم ایس کے ذریعے شکایات کے ازالے کا خصوصی نظام اور فرسودہ قواعد و ضوابط اور طریقۂ کار کو آسان بنانا شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد نئے ضوابط متعارف کرانے کے بجائے غیر ضروری دفتری اور طریقۂ کار کی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے، تاکہ پنشن کے انتظامی امور کو شہریوں کی ضروریات کے مطابق زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پنشن یافتگان کی تجاویز کا خیرمقدم کرتی ہے، خصوصاً ان معاملات میں جہاں انہیں مشکلات، رکاوٹوں یا پیچیدہ طریقۂ کار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنشن یافتگان کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے کے لیے فرسودہ قواعد اور شرائط ختم کرنے کا عمل جاری رہے گا۔
پنشن و پنشن یافتگان کی فلاح وبہبود کے محکمہ کی سکریٹری محترمہ نویدیتا شکلا ورما نے کہا کہ ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ مہم پنشن یافتگان کی فلاح و بہبود، زندگی کو آسان بنانے، ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانے اور ان کی عزت و وقار کو یقینی بنانے کے مقاصد کے تحت چلائی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کے ’’کم سے کم حکومت، زیادہ سے زیادہ حکمرانی‘‘ کے وژن کو بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مہم پنشن یافتگان کو ایک تیز رفتار، آسان اور قابلِ رسائی سہولت فراہم کرتی ہے، جس سے انہیں بار بار سرکاری دفاتر کے چکر لگانے اور دفتری کارروائیوں سے متعلق مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پرنٹ اور سوشل میڈیا، واٹس ایپ نیٹ ورکس، مختصر معلوماتی ویڈیوز اور پنشن یافتگان کی انجمنوں کے ذریعے وسیع پیمانے پر تشہیری مہم چلانے سے عوام میں بیداری پیدا کرنے اور اس مہم میں ان کی شرکت بڑھانے میں مدد ملی ہے۔
محترمہ نویدیتا شکلا ورما نے کہا کہ یہ مہم حکومت کے تمام محکموں اور اداروں کے باہمی اشتراک کی ایک جامع مثال ہے۔ اس میں پنشن تقسیم کرنے والے بینک، وزارتِ ریلوے، وزارتِ دفاع، محکمہ ٹیلی مواصلات، محکمہ ڈاک، الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت ، یو آئی ڈی اے آئی، ریاستی حکومتیں اور پنشن یافتگان کی انجمنیں مل کر کام کر رہی ہیں۔ اس مہم کے تحت تقریباً 3,000 مقامات پر کیمپ لگائے جا رہے ہیں، جبکہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے پنشن یافتگان تک پہنچنے کے لیے خصوصی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔
ایسے پنشن یافتگان کے لیے گھر پر خدمات فراہم کرنے کا بھی انتظام کیا گیا ہے جو کسی وجہ سے کیمپوں تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس طرح اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ نقل و حرکت میں دشواری یا جغرافیائی فاصلے کی وجہ سے کوئی بزرگ شہری اس مہم کے فوائد سے محروم نہ رہے۔ سکریٹری نے پنشن یافتگان سے اپیل کی کہ وہ اس مہم سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنے دیگر ساتھی پنشن یافتگان کو بھی اس میں شرکت کی ترغیب دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کے مثبت تجربات اور لوگوں کے درمیان زبانی تشہیر سے اس کی رسائی اور اثرات میں مزید اضافہ ہوگا۔
اس پروگرام کے دوران ایک مجموعۂ معلومات پر مشتمل کتابچہ (کمپنڈیم بُک لیٹ) جاری کیا گیا، جبکہ ملک گیر ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ مہم 4.0 کی سرگرمیوں اور تفصیلات کو محفوظ کرنے کے لیے ایک کافی ٹیبل ای -بُک بھی جاری کی گئی۔




***
ش ح۔ م م ۔م ذ
U.No: 7348