امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 NOV 2026 4:41PM by PIB Delhi
حکومت ہند غذائی اجناس، بالخصوص چاول کی قیمتوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ملک میں اس کی وافر دستیابی کویقینی بنانے، قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے پالیسی سطح پر متعدد اقدامات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:
ملک بھر میں چاول اور دھان کے ذخیرے کی تفصیلات ظاہر کرنا لازمی
حکومت ہند نے 06.11.2026 کو ایک حکم نامہ جاری کیا ہے، جس کے تحت تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تاجروں، تھوک فروشوں، پرچون فروشوں، بڑے تجارتی سلسلوں (چینز)کے خردہ فروشوں اور پراسیسنگ کرنے والوں/ملوں کو چاول اور دھان کے اپنے ذخیرے کی تفصیلات درج ذیل چھ زمروں کے تحت ظاہر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے:
(i) باسمتی چاول؛
(ii) غیر باسمتی اعلیٰ معیار کا چاول؛
(iii) غیر باسمتی چاول؛
(iv) نیم پکا ہوا چاول؛
(v) ٹوٹا ہوا چاول؛ اور
(vi) دھان۔
چاول اور دھان کا ذخیرہ رکھنے والے تمام اداروں کے لیے لازم ہے کہ وہ ہر جمعہ کو فوڈ اسٹاک پورٹل (https://foodstock.dfpd.gov.in) پر اپنے ذخیرے کی تفصیلات درج کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ فراہم کردہ معلومات درست ہوں اور انہیں باقاعدگی سے تازہ کیا جاتا رہے۔ پورٹل پر غیر رجسٹرڈ پائے جانے والے یا مقررہ حد سے زیادہ ذخیرہ رکھنے والے کسی بھی ادارے کے خلاف ضروری اشیا قانون، 1955 کی دفعات 6 اور 7 کے تحت مناسب تعزیری کارروائی کی جا سکتی ہے۔
جنوبی ریاستوں کو ذخیرے کی حد مقرر کرنے کی منظوری
صارفین کو مناسب قیمتوں پر چاول کی فراہمی یقینی بنانے کے مقصد سے، بالخصوص جنوبی ریاستوں میں حکومت ہند نے 06.11.2026 کو جاری کردہ مراسلے کے ذریعے آندھرا پردیش، کرناٹک، کیرالہ، تمل ناڈو اور تلنگانہ کی ریاستی حکومتوں کو ضرورت کے مطابق مناسب کنٹرول آرڈرز کے تحت دھان اور چاول کے ذخیرے کی حد مقرر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
ذخیرے کی یہ حد 31 جنوری 2027 تک نافذ العمل رہے گی۔ بازار میں چاول کی مناسب دستیابی یقینی بنانے اور ذخیرہ اندوزی نیز غیر قانونی خرید و فروخت کی روک تھام کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتیں ان اقدامات پر عمل درآمد کی قریبی نگرانی کریں گی۔
بازار میں دستیابی بڑھانے کے لیے ’بھارت رائس‘ کی اضافی مقدار مختص
حکومت ہند ملک بھر میں، بالخصوص جنوبی ریاستوں میں، ‘بھارت رائس’ کی فروخت اور دستیابی میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کے مقصد سے تین ایجنسیوں این اے ایف ای ڈی، این سی سی ایف اور کیندریہ بھنڈار کو اس کی اضافی مقدار مختص کر رہی ہے۔ ان ایجنسیوں کو یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ وہ صارفین تک ’بھارت رائس‘ کی وسیع تر رسائی اور اسے بآسانی دستیاب کرانے کے لیے تقسیم کے تمام ممکنہ ذرائع تلاش کریں۔ توقع ہے کہ اس اقدام سے بازار میں چاول کی رسد بڑھے گی، صارفین کو مناسب قیمتوں پر چاول بآسانی دستیاب ہوگا اور خردہ قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے میں مدد ملے گی۔
27-2026 کے لیے او ایم ایس ایس (ڈی) کے تحت چاول کی فروخت کا ہدف دوگنا
حکومت ہند نے27-2026 کے لیے اوپن مارکیٹ سیل اسکیم (گھریلو) [او ایم ایس ایس (ڈی)] کے تحت ای نیلامی کے ذریعے فروخت کیے جانے والے چاول کی مقدار کا ہدف 25 لاکھ میٹرک ٹن سے بڑھا کر 50 لاکھ میٹرک ٹن کر دیا ہے۔ مالی سال 27-2026 میں 31 اکتوبر 2026 تک او ایم ایس ایس (ڈی) کی ای نیلامیوں کے ذریعے نجی اداروں کو مجموعی طور پر 25 لاکھ میٹرک ٹن چاول فروخت کیا جا چکا ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران یہ مقدار 11 لاکھ میٹرک ٹن تھی۔ یہ اعداد و شمار اس اقدام کے نتیجے میں بازار میں چاول کی رسد میں نمایاں اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔
یہ اقدامات ملک بھر میں ضروری غذائی اجناس کی وافر دستیابی یقینی بنانے، قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے اور صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔
***
ش ح ۔م ع ن۔ ن ع
U. No.7346