حکومت ہند کے سائنٹفک امور کے مشیر خاص کا دفتر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 NOV 2026 6:39PM by PIB Delhi
حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے صنعت و داخلی تجارت کے فروغ کے محکمے (ڈی پی آئی آئی ٹی)، وزارتِ تجارت و صنعت کے اشتراک سے 6 نومبر 2026 کو پروفیسر اجے کمار سود، پرنسپل سائنسی مشیر (پی ایس اے) کی صدارت میں ڈی پی آئی آئی ٹی کے اسٹارٹ اَپ انڈیا پورٹل کو انڈین سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انجینئرنگ فیسلٹیز میپ (آئی-اسٹیم) پورٹل سے مربوط کرنے کے لیے اے پی آئی انضمام کا آغاز کیا۔ اس اقدام کا مقصد اسٹارٹ اَپ کے نظام اور ملک کے تحقیقی بنیادی ڈھانچے کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا ہے، تاکہ ڈی پی آئی آئی ٹی سے تسلیم شدہ اسٹارٹ اَپس موجودہ سائنسی اور تجرباتی سہولتوں کی معلومات حاصل کرسکیں اور ان تک رسائی حاصل کرسکیں۔
اس موقع پر پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر کی سائنسی سکریٹری ڈاکٹر (محترمہ) پرویندر مینی اور ڈی پی آئی آئی ٹی کے ایڈیشنل سکریٹری جناب اتیش کمار سنگھ نے شرکت کی۔ پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر کے سائنس داں-ایف ڈاکٹر وشال چودھری، سائنس داں-ڈی ڈاکٹر سنتوش نائر، تکنیکی عملے سے وابستہ ڈاکٹر شفالی اُتم اور ڈی پی آئی آئی ٹی و آئی-اسٹیم کی ٹیموں کے ارکان بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر وشال چودھری نے آئی-اسٹیم کی موجودہ صورتِ حال اور اس کے اثرات کے بارے میں ایک مختصر پریزنٹیشن پیش کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر سود نے کہا کہ یہ انضمام محض ایک ڈیجیٹل رابطے سے بڑھ کر ادارہ جاتی ہم آہنگی کی نمائندگی کرتا ہے، جو اسٹارٹ اَپس کی ضروریات کو ملک بھر میں دستیاب سائنسی بنیادی ڈھانچے اور تکنیکی صلاحیتوں سے مربوط کرتا ہے۔ انہوں نے اس کی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کے اخراجات کم کرنے، بھاری سرمایہ کاری سے قائم کی جانے والی سہولتوں کی تکرار سے بچنے اور عوامی مالی اعانت سے قائم بنیادی ڈھانچے کے بہتر استعمال کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط روابط اور ٹیکنالوجی کی تیاری، ابتدائی نمونے بنانے، جانچ اور توثیق کے تمام مراحل میں گہری ٹیکنالوجی (ڈیپ ٹیک) سے وابستہ اسٹارٹ اَپس کے لیے مخصوص سہولتوں تک رسائی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
ڈاکٹر مینی نے تعلیمی اور تحقیقی اداروں میں سائنسی بنیادی ڈھانچے کے اشتراک اور اس کے بہترین استعمال کو فروغ دینے میں آئی-اسٹیم کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس انضمام سے ڈی پی آئی آئی ٹی سے تسلیم شدہ اسٹارٹ اَپس کے لیے متعلقہ سہولتوں کی تلاش آسان ہوجائے گی، جس سے ٹیکنالوجی کی تیاری اور اختراع کی راہ میں بنیادی ڈھانچے سے متعلق رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔

جناب اتیش کمار سنگھ نے اسٹارٹ اَپس، بالخصوص گہری ٹیکنالوجی (ڈیپ ٹیک) کے شعبے کے لیے سازگار ماحول تیار کرنے کی غرض سے ڈی پی آئی آئی ٹی کی کوششوں کو مضبوط بنانے میں اس انضمام کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس انضمام کے ذریعے ڈی پی آئی آئی ٹی سے تسلیم شدہ اسٹارٹ اَپس کو خصوصی تحقیقی، تجرباتی اور ابتدائی نمونے تیار کرنے کی سہولتوں کے بارے میں بہتر معلومات حاصل ہوسکیں گی، جس سے وہ اپنے لیے موزوں بنیادی ڈھانچے کی شناخت کرسکیں گے، مہنگے آلات میں خود سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت کم ہوگی اور مصنوعات کی تیاری، جانچ اور ٹیکنالوجی کی توثیق کے لیے ادارہ جاتی صلاحیتوں سے استفادہ کرسکیں گے۔

اس انضمام کے ذریعے اسٹارٹ اَپ انڈیا پورٹل اور آئی-اسٹیم کے درمیان اے پی آئی کی مدد سے بلا رکاوٹ باہمی رابطے اور معلومات کے تبادلے کو ممکن بنایا جائے گا۔ اس کے اگلے مراحل میں سنگل سائن آن (ایس ایس او) کی سہولت بھی شامل کرنے کی تجویز ہے، جس کے ذریعے ڈی پی آئی آئی ٹی سے تسلیم شدہ اسٹارٹ اَپس اسٹارٹ اَپ انڈیا پورٹل کے توسط سے براہِ راست آئی-اسٹیم کے سائنسی بنیادی ڈھانچے اور تحقیقی سہولتوں تک رسائی حاصل کرسکیں گے اور ان سے استفادہ کرسکیں گے۔ ڈی پی آئی آئی ٹی سے منظوری کی حیثیت کی خودکار تصدیق اور بلا رکاوٹ رابطہ سازی سے رجسٹریشن کا عمل آسان ہوگا اور سائنسی آلات و تحقیقی سہولتوں کی تلاش میں بھی سہولت ملے گی۔ اگرچہ اس انضمام سے بنیادی ڈھانچے کی شناخت اور اس تک رسائی کی درخواست دینے کا عمل آسان ہوجائے گا، تاہم انفرادی درخواستوں کا جائزہ لینے اور انہیں منظوری دینے کا اختیار متعلقہ میزبان اداروں کے پاس ہی رہے گا۔ یہ منظوری تکنیکی موزونیت، دستیابی، قابلِ اطلاق فیس، حفاظتی تقاضوں اور ادارہ جاتی اجازتوں کی بنیاد پر دی جائے گی۔ 6 نومبر 2026 تک آئی-اسٹیم پر 4,044 رجسٹرڈ اداروں کے 31,540 آلات درج تھے، جو محققین اور اختراع کاروں کے لیے قومی سطح پر ایک وسیع وسائل کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
یہ اقدام ڈی پی آئی آئی ٹی اور پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر کی ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی ادارہ جاتی صلاحیتوں کو یکجا کرتا ہے، تاکہ اختراع کے ایک زیادہ مربوط اور وسائل کے مؤثر استعمال پر مبنی نظام کی تشکیل کی جاسکے۔ تحقیقی سہولتوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت، بنیادی ڈھانچے سے متعلق معلومات کی باقاعدہ تجدید اور اسٹارٹ اَپس و میزبان اداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ اس اقدام کے دائرۂ کار کو وسیع کرنے اور سائنسی صلاحیتوں کو ٹیکنالوجی پر مبنی حل میں تبدیل کرنے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے ناگزیر ہوگا۔
***
ش ح۔ ف ا ۔ م ر
U-NO. 7359