وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

سرحدی علاقوں میں ترقیاتی پیش رفت اور عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کے ذریعے قوم کی تعمیر میں کور کے کردار کو سراہا


سکمنا مشرقی ہندوستان کے سلامتی کے نظام کا ایک اہم حصہ ہے؛ فوجیوں کو ضروری اشیاء کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے حکومت رسدی سلسلوں کو مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے: جناب راج ناتھ سنگھ

’’جدید جنگ اب روایتی لڑائیوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس میں مخلوط جنگ، پراکسی جنگ، سائبر حملے، ڈرون کی دراندازی اور اطلاعاتی جنگ بھی شامل ہیں؛ مسلح افواج کو چوکس رہنا چاہیے‘‘

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 NOV 2026 8:03PM by PIB Delhi

وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 7 نومبر 2026 کو مغربی بنگال کے سکمنا میں ترشکتی کور کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہیں حقیقی خطِ قبضہ (ایل اے سی) کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور آپریشنل صلاحیتوں اور جنگی اثرانگیزی میں اضافے کے لیے جدید فوجی سازوسامان اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی تعیناتی کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔

وزیر دفاع نے کور کی آپریشنل تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور سرحدی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مقامی برادریوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے مقصد سے عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات کے ذریعے قوم کی تعمیر میں اس کے تعاون کو سراہا۔

اس موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل دھیرج سیٹھ، مشرقی کمان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل وی ایم بی کرشنن اور 33 کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل من راج سنگھ مان کے علاوہ فوج کے دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image001_20261107200440_507d1c.jpg

بعد ازاں، دیوالی کے موقع پر بارہ خانہ کے دوران فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے مشکل آپریشنل حالات میں ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے تئیں ان کی بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل لگن کی ستائش کی۔ قومی سلامتی میں رسدی نظام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے سکمنا اور اس کے آس پاس کے علاقے کو اگلے مورچوں تک رسد، ہتھیاروں، خوراک، طبی سازوسامان اور اہلکاروں کی نقل و حرکت کے لیے ایک اہم مرکز قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ سکمنا مشرقی ہندوستان کے سلامتی کے نظام کی ایک اہم کڑی ہے اور اس کا جغرافیائی محلِ وقوع انتہائی حساس ہونے کے باعث یہاں چوبیس گھنٹے آپریشنل تیاری برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت رسدی سلسلوں کو مضبوط بنانے اور اگلے مورچوں پر تعینات فوجیوں کو تمام ضروری اشیاء کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image002_20261107200447_03f892.jpg

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ سڑکوں، سرنگوں، سرحدی بنیادی ڈھانچے اور جدید سازوسامان کے لیے بجٹ کی تخصیص میں اضافہ کیا گیا ہے اور ملک مسلسل ’آتم نربھر بھارت‘ کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے اسٹارٹ اَپ اور صنعتیں اب فوجیوں کے لیے ڈرون، ڈرون مخالف نظام اور دیگر جدید ترین سازوسامان تیار کر رہی ہیں۔ یہ باعثِ فخر ہے کہ ہماری مسلح افواج ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو سرگرمی سے اپنا رہی ہیں، ڈرون چلانے کی تربیت حاصل کر رہی ہیں، سائبر سلامتی کے بارے میں اپنی سمجھ بوجھ میں اضافہ کر رہی ہیں اور نئے طریقہ ہائے کار کی تربیت لے رہی ہیں۔ یہ تبدیلی ہمیں مستقبل کے چیلنجوں کے لیے تیار کرے گی۔‘‘

جدید جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر دفاع نے زور دیا کہ سلامتی کے چیلنج اب سرحدوں پر روایتی فائرنگ یا توپ خانے کے تبادلے تک محدود نہیں رہے، بلکہ ان میں مخلوط جنگ، پراکسی جنگ، سائبر حملے، ڈرون کی دراندازی اور اطلاعاتی جنگ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مخالف عناصر تیزی سے سوشل میڈیا کے ذریعے افواہیں پھیلانے، ڈرون کے ذریعے حساس مقامات کی نگرانی کرنے اور سائبر حملوں کے ذریعے فوجی نظاموں کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے فوجی اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ تمام محاذوں پر قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے چوکس اور تیار رہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image003_20261107200457_baa543.jpg

جناب راج ناتھ سنگھ نے فوجیوں کے حوصلے بلند کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور افسران پر زور دیا کہ وہ جب بھی ممکن ہو، فوجیوں کے ساتھ معیاری وقت گزاریں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے میل جول سے اہلکاروں میں اپنائیت کا مضبوط احساس پیدا ہوگا اور ان کا یہ اعتماد مزید مستحکم ہوگا کہ حکومت اور پوری قوم مضبوطی کے ساتھ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

وزیر دفاع نے مسلح افواج کے اہلکاروں کی ذہنی صحت اور جذباتی فلاح و بہبود کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ فوجیوں کو اپنے اہل خانہ سے دور رہنے اور فرائض کی نوعیت کے باعث ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے فوجیوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھل کر بات چیت کریں اور اپنے جذبات کو دبانے کے بجائے ان سے تعاون حاصل کریں۔

شمال مشرقی خطے کو ہندوستان کا ’’آخری کنارہ‘‘ نہیں بلکہ ’’پہلا کنارہ‘‘ قرار دیتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ خطہ ملک کے جغرافیائی اور ثقافتی منظرنامے کا نقطۂ آغاز ہے، کیونکہ یہاں صبح کی سورج کی پہلی کرنیں پڑتی ہیں۔ انہوں نے شمال مشرق کی بھرپور حیاتیاتی گوناگونی، قدرتی خوب صورتی، ثقافتی تنوع اور منفرد روایات کو اجاگر کرتے ہوئے اسے ہندوستان کی شناخت کا ایک اٹوٹ حصہ قرار دیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image004_20261107200505_d4c69e.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image005_20261107200514_397d5b.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image006_20261107200524_394a0b.jpg

وزیر دفاع نے فوجی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو دیوالی کی مبارک باد پیش کی اور انہیں یقین دلایا کہ حکومت ان کی حفاظت، وقار اور فلاح و بہبود کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے بارہ خانہ کو باہمی اتحاد اور مساوات کے جذبے کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تقریبات عہدوں اور درجات کی تفریق سے بالاتر ہو کر مختلف علاقوں، ثقافتوں اور لسانی پس منظر سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کو ایک خاندان کے طور پر یکجا کرتی ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/nov/image007_20261107200533_05a692.jpg

****

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-7383


(ریلیز آئی ڈی: 2334038) وزیٹر کاؤنٹر : 16
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi , Gujarati