وزارت دفاع
نئی دہلی میں بحری کمانڈروں کی کانفرنس 2026 کا دوسرا ایڈیشن
وزیر دفاع نے بحری کمانڈروں سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی بحریہ کے بڑھتے ہوئے اسٹریٹیجک رول اور عملیاتی رسائی کو اجاگر کیا
چیف آف ڈیفنس اسٹاف نے بھارتی بحریہ کو تزویراتی قوت میں اضافہ کرنے والی اہم طاقت قرار دیا ساتھ ہی جدید جنگ میں ٹیکنالوجی کی تبدیلی، اعداد و شمار کے تبادلے اور لچک پر بھی زور دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 SEP 2026 12:14PM by PIB Delhi
بحری کمانڈروں کی کانفرنس 2026 کے دوسرے ایڈیشن کا آغاز 29 ستمبر 2026 کو نوسینا بھون، نئی دہلی میں ہوا۔ اس کانفرنس میں بھارتی بحریہ کی اعلیٰ قیادت، بشمول عملیاتی اور علاقائی کمانڈروں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں عملیاتی تیاری، بحری سلامتی اور مستقبل کی صلاحیتوں کی ترقی سے متعلق امور پر غور و خوض کیا جا رہا ہے۔
کانفرنس کا آغاز چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل کرشنا سوامی ناتھن کے افتتاحی خطاب سے ہوا، جس میں انہوں نے موجودہ بحری سلامتی کی صورت حال اور بھارتی بحریہ کی عملیاتی تیاری کا جائزہ لیا۔ انہوں نے سمندری شعبے میں موجودہ اور ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ سطح کی جنگی تیاری، چابک دستی اور فوری ردعمل کی صلاحیت برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنانے اور صلاحیتوں کی ترقی میں تیزی لانے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
بحری کمانڈروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے بحری شعبے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک ذمہ داریوں اور بحر ہند کے خطے میں بھارتی بحریہ کے پہلے ردعمل دینے والے ادارے اور ترجیحی سلامتی شراکت دار کے طور پر کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بحری نگرانی، تجزیاتی صلاحیت اور عملیاتی ردعمل کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
مغربی ایشیا کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بحریہ کی جانب سے آپریشن ارجا سرکشا انجام دیے جانے اور بھارت کی توانائی سلامتی کے تحفظ میں اس کے تعاون کو اجاگر کیا۔ انہوں نے آتم نربھرتا، مقامی صلاحیتوں کی ترقی اور ٹیکنالوجی کو اپنانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محفوظ سمندر ہی محفوظ اور ترقی یافتہ ملک کی بنیاد ہیں۔
چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنّی نے بھارتی بحریہ کو تزویراتی قوت میں اضافہ کرنے والی اہم طاقت قرار دیا اور ٹیکنالوجی کو اپنانے، آتم نربھرتا اور بھارت کی توانائی سلامتی کے تحفظ کے لیے اس کی مسلسل کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت کو اجاگر کرتے ہوئے تیز رفتار تکنیکی تبدیلی، اعداد و شمار کے بلارکاوٹ تبادلے، بہتر لچک اور پائیداری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مسلح افواج کے درمیان زیادہ سے زیادہ مشترکہ کارروائی اور انضمام کو بھی اس کے لیے بنیادی قرار دیا۔
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل دھیرج سیٹھ نے بھی بحری کمانڈروں سے بات چیت کی اور موجودہ سلامتی کے ماحول کے بارے میں اپنے خیالات پیش کیے۔ اس بات چیت میں تینوں افواج کے درمیان تعاون، باہمی مطابقت اور ابھرتے ہوئے سلامتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مربوط ردعمل کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ تبادلۂ خیال میں مشترکہ تیاری کو بہتر بنانے کے لیے تینوں افواج کے درمیان قریبی رابطے اور عملی تجربات کے مسلسل تبادلے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور چیف آف آرمی اسٹاف کے ساتھ ہونے والی بات چیت نے بحریہ کی اعلیٰ قیادت کو جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت، صلاحیتوں کی ترقی اور ابھرتے ہوئے سلامتی چیلنجوں سے نمٹنے میں مربوط کارروائیوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے بارے میں خیالات کے تبادلے کا موقع فراہم کیا۔
تین روزہ کانفرنس کے باقی اجلاسوں کے دوران بحریہ کی اعلیٰ قیادت آپریشنز، ساز و سامان، رسد، انسانی وسائل، تربیت، فوجی صلاحیتوں کی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کو شامل کرنے سے متعلق امور پر تفصیلی غور و خوض کرے گی۔ فوجی دستوں کی تعداد اور تعیناتی کو بہتر بنانے، جنگی تیاری مضبوط کرنے اور صلاحیتوں کی ترقی میں تیزی لانے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
(3)_20260930121644_d1454d.jpeg)
(3)_20260930121704_9f39ba.jpeg)
(3)_20260930121722_73f5bc.jpeg)
(2)_20260930121740_136e52.jpeg)
_20260930121756_06c43f.jpeg)
_20260930121823_3f5c17.jpeg)
_20260930121847_53b8c1.jpeg)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔م م ع۔ن م۔
U- 4345
(ریلیز آئی ڈی: 2316903)
وزیٹر کاؤنٹر : 14