• Sitemap
  • Advance Search

پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی)

 

مؤثر سرکاری مواصلات کے توسط سے زیادہ سے زیادہ حکمرانی

 

پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) حکومت ہند کی ایک کلیدی ایجنسی ہے جو حکومت کی پالیسیوں، پروگراموں، پہل قدمیوں اور حصولیابیوں کے سلسلے میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو اطلاعات کی ترسیل کے عمل میں مصروف ہے۔ یہ حکومت ہند اور میڈیا کے مابین ایک رابطہ کار کا بھی کام کرتی ہے، ساتھ ہی ساتھ میڈیا میں منظرعام پر آنے والے ردعمل کو بھی حکومت تک پہنچانے کا کام کرتی ہے۔

پی آئی بی مواصلات کے مختلف طریقوں یعنی پریس ریلیز، پریس نوٹ، وضاحتی بیان، فرد حقائق اور فیچر و مضامین، فوٹو گراف، ویڈیو، انفوگرافکس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعہ بھی اطلاعات کی ترسیل کرتی ہے۔ ترسیل کی جانے والی اطلاعات انگریزی، ہندی اور اردو، اور بعد ازاں دیگر زبانوں میں بھی ترجمہ کی جاتی ہے تاکہ ملک کے مختلف حصوں میں تقریباً 8400 اخبارات اور میڈیا اداروں تک پہنچ سکیں۔

اس کے علاوہ، پی آئی بی حکومت کی اہم پالیسی پہل قدمیوں سے میڈیا کوباخبر کرنے نیز اطلاعات فراہم کرنے کے لیے وزراء/سکریٹری حضرات اور دیگر سینئر افسران کی پریس کانفرنس، پریس بریفنگ انٹرویو وغیرہ کا بھی اہتمام کرتی ہے۔ بیورو میڈیا کو ملک میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں کی اولین آگہی فراہم کرنے اور حکومت کی اہم پالیسیوں کی ترسیل میں اعانت کے لیے منتخبہ پروجیکٹ سائٹوں تک پریس ٹور لے جانے کا اہتمام بھی کرتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/photo/2023/jun/ph2023616213301.png

 

پی آئی بی کی تاریخ

پریس انفارمیشن بیورو کی تاریخ کو اولین جنگ عظیم کے برسوں میں تلاش کیا جا سکتا ہے جب نوآبادیاتی حکومت کے وزیر داخلہ کے تحت ایک مرکزی تشہیری بورڈ تشکیل پایا تھا۔ بعد ازاں،جون 1919 میں ڈاکٹر ایلایف رش بروک ولیمس کی قیادت میں خانگی محکمے میں ایک سیل کا قیام عمل میں آیا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ برطانوی پارلیمنٹ کے روبرو پیش کیے جانے کی غرض سے بھارت سے متعلق ایک سالانہ رپورٹ مرتب کی جا سکے۔

آئندہ برسوں میں اس سیل کی کارکردگی میں اضافہ ہوا اور اس نے تمام سوالات کے صحیح جوابات دینے کا اہتمام اور اس کی نگرانی کا فریضہ بھی سنبھال لیا اور حکومت کا یہ اطلاعاتی محکمہ ایسے خاص سوالات پر جس پر رائے عامہ اثر انداز ہوتی ہے جس سے متعلق مزید اطلاعات درکار ہوتی ہیں، یہ تمام امور بھی اس میں شامل ہوگئے۔

1920 کے اواخر تک، سیل کا نام بدل کر سینٹرل بیورو آف انفارمیشن رکھا گیا اور ڈاکٹر ایل ایف رش بروک ولیمس اس کے ڈائرکٹر مقرر ہوئے۔ بیورو کے سربراہ کے عہدے کا نام ڈائرکٹر سے بدل کر 1938 میں پرنسپل انفارمیشن آفیسر کر دیا گیا۔

1941 میں شری جے  نٹراجن پہلے بھارتی تھے جنہیں پرنسپل انفارمیشن آفیسر مقرر کیا گیا اور اس ادارے کے نام 1946 میں بدل کر پریس انفارمیشن بیورو کر دیا گیا۔

اس بیورو کے فرائض منصبی جیسا کہ ڈاکٹر رش بروک ولیمس نے بیان کیے ہیں، درج ذیل تھے:

(1) پریس یعنی اخبارات کی تفصیلات کے لیے درکار مواد فراہم کرنا۔

(2) بلاکسی تبصرے کے حقائق کی روداد بتاتے ہوئے ایجنسی خبر کی خدمت فراہم کرنا۔

(3) فرقہ پرستانہ نوعیت کے حامل کسی بھی مواد کو علیحدہ کرنا، اور،

(4) سیاسی یا متنازعہ نوعیت کے مواد کو سختی سے علیحدہ کرنا، سوائے اس کے کہ جب اسے کسی طے شدہ ذریعہ کی بنیاد پر شامل کیا گیا ہو۔

حصول آزادی کے بعد، بیورو کا دائرہ امکان مزید تبدیلیوں سے ہمکنار ہوا۔ بیورو کے فرائض میں نہ صرف یہ کہ حکومت کے پروگراموں، پالیسیوں اور سرگرمیوں سے متعلق مبنی بر حقائق اطلاعات کی فراہمی شامل تھی، بلکہ اسے ان حقائق اور سرکاری پالیسیوں کے معنی و مطالب فراہم کرنے کا اضافی نازک فریضہ بھی سونپا گیا۔

میڈیا سے متعلق جدید ترین تکنالوجی کی آمد کے ساتھ سرکاری سرگرمیوں کی توسیع اور متنوع میڈیا ضروریات کے پیش نظر، پی آئی بی کا کردار آزادی کے بعد سے وسعت پذیر اور مزید مرکب ہوتا گیا۔

National Portal Of India
STQC Certificate