• Sitemap
  • Advance Search

پی آئی بی کے اہم کام کاج

 

پریس انفارمیشن بیورو حکومت اور میڈیا کے مابین ایک اہم مجاز مواصلاتی چینل کے طور پر کام کرتا ہے، یہ بیورو اس بنیادی تصور کے ساتھ کام کرتا ہے کہ جمہوری طور پر منتخبہ حکومت جسے عوام نے اپنی رائے عامہ سے نوازا ہے اسے اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ اس کی پالیسیاں اور پروگرام اور سرگرمیاں معقول طور پر پیش کی جائیں اور ان کی ترسیل عوام تک مناسب انداز میں ہو۔ لہٰذا پی آئی بی کے اہم کام کاج کو درج ذیل زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

organisational setup

اطلاعات، تعلیم اور مواصلات (تشہیر)

پی آئی بی میں تعینات انڈین انفارمیشن سروسز (آئی آئی ایس) کے افسران کو مجاز ترجمان اور میڈیا مشیر کے طور پر ذمہ داری سونپی جاتی ہے تاکہ وہ مختلف وزارتوں اور محکموں کے میڈیا اور مواصلات کی ذمہ داری سنبھال سکیں۔ یہ افسر وزارت اور میڈیا کے مابین ایک رابطے کے پل کا کام کرتا ہے اور دو طرفہ اطلاعات کی ترسیل کو یقینی بناتا ہے۔ وہ  میڈیا کو وزارت / محکمے کی پالیسیوں اور پروگراموں کی آگہی فراہم کرتا ہے/ کرتی ہے، اطلاعات کی ترسیل کرتا ہے/کرتی ہے، سوالات کے جوابات دیتا ہے/ دیتی ہے،وضاحتیں فراہم کرتا ہے/ کرتی ہے اور کسی بھی طرح کے شبہات اور گمراہ کن اطلاعات کا ازالہ کرتا ہے/ کرتی ہے۔ ان کے فرائض میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ سرکاری پالیسیوں اور متعلقہ رائے عامہ کے نفاذ کے سلسلے میں بنیادی سطح کا ردعمل فراہم کریں ، اس کے لیے انہیں مختلف النوع میڈیا پلیٹ فارموں کی رپورٹوں کا تجزیہ کرنا ہوتا ہے۔ یہ مشاورتی کردار اصلاح کا راستہ ہموار کرتا ہے اور وزارت/محکمے کو آئی ای سی (اطلاعات، تعلیم اور مواصلات) حکمت عملی وضع کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔پی آئی بی افسران کے ذریعہ مواصلات کے مختلف طور طریقے اپنائے جاتے ہیں جن میں پریس ریلیز، پریس نوٹ ، پس منظر نامہ، اور فرد حقائق ، فیچر، مضامین، فوٹوگراف، ویڈیوز، انفوگرافکس اور سماجی میڈیا پلیٹ فارم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پی آئی بی پریس کانفرنس، پریس بریفنگ، انٹرویو، وزرا/سکریٹری حضرات اور دیگر سینئر افسران کی رسمی غیر رسمی بریفنگ  کا اہتمام بھی کرتا ہے تاکہ حکومت کی اہم پالیسی پہل قدمیوں کے سلسلے میں میڈیا کے نمائندگان کو بیدار و خبردار کیا جا سکے۔روزمرہ کے تشہیری کام کے علاوہ بیورو علاقائی سطح پر وارتا لاپ اور پریس ٹور کے اہتمام سمیت تشہیر کی خصوصی کوششوں کا بھی اہتمام کرتا ہے۔

فوٹو خدمات

پی آئی بی کے تحت فوٹو ڈیویزن کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ حکومت ہند کی مختلف سرگرمیوں سے متعلق تصاویر فراہم کرکےمیڈیا کو بصری اعانت فراہم کرے۔ یہ اعانت وزارت اطلاعات و نشریات کی میڈیا اکائیوں اور دیگر وزارتوں/محکموں /صدر جمہوریہ کے دفتر ، نائب صدر جمہوریہ کے دفتر، وزیر اعظم کے دفتر، لوک سبھا اور راجیہ سبھا صدر دفاتر سمیت دیگر سرکاری اکائیوں کو بھی فراہم کی جاتی ہے۔ ماہ اکتوبر 1959 میں قائم یہ ڈیویژن ملک میں شاید واحد ڈیویژن ہے جس کے پاس ڈجیٹل شکل میں 10 لاکھ سے زائد نیگیٹو / ٹرانسپیرنسیز کا ایک وسیع ذخیرہ دستیاب ہے جو ماقبل آزادی کے عہد سے لے کر آج تک کی مدت پر محیط ہے۔

تحقیقی اکائی

تحقیقی اکائی (آئی یو) جو پی آئی بی کے زیر اہتمام سب سے نو عمر ڈیویژن ہے اس نے ماہ اکتوبر 2021 سے کام کی ابتدا کی تھی۔ قومی اہمیت اور افادیت کے حامل مختلف النوع شعبوں کے سلسلے میں یہ بدلتے ہوئے منظرنامےاور ضروریات کی بنیاد پر وسیع تر تحقیقی دستاویزات کا ایک سلسلہ فراہم کرکے عوام الناس کے لیے مؤثر مواصلاتی رابطہ کاری فراہم کرتا ہے۔ پس منظر ناموں/ وضاحت ناموں، فرد حقائق، ایف اے کیو او رفیچرس  کی شکل میں، یہ دستاویزات مخصوص شعبے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بااختیار بنانے کے لیے متعلقہ موضوع کے شعبے میں مجموعی آگہی فراہم کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا سرگرمیاں

پی آئی بی کا سوشل میڈیا سیل سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جن کا تعلق سرکاری پالیسیوں، پروگراموں، پہل قدمیوں ا ور حصولیابیوں سے ہوتا ہے، اطلاعات/سرگرمیوں کو تفصیلی شکل میں پیش کرنے کے لیے ذمہ دار ہے۔ ٹوئیٹر، فیس بک ، انسٹاگرام، یو ٹیوب، کو اور پبلک ایپ  پر پی آئی بی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا استعمال مختلف النوع وزارتوں/محکموں سے مربوط پی آئی بی افسران کے ذریعہ تیار کردہ پریس ریلیز کو واضح شکل میں پیش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ پلیٹ فارم پریس کانفرنس، سوشل میڈیا جن کا تعلق مختلف تقریبات اور پی آئی بی فیکٹ چیک یونٹ کی جانب سے انجام دیے جانے والے امور پر احاطے سے ہوتا ہے، اس کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

میڈیا سے وابستہ کارکنان کی باقاعدہ شناخت  اور منظوری

پی آئی بی صدر دفاتر میں غیر ملکی میڈیا سمیت میڈیا نمائندگان کو باقاعدہ شناخت نامے بھی جاری کرتا ہے۔ اس سہولت کے توسط سے انہیں سرکاری ذرائع سے متعلق اطلاعات تک رسائی حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ 9 مئی 2023 کو منظور شدہ میڈیا افراد کی تعداد 1482 نامہ نگاروں، 505 کیمرامین/ فوٹو گرافروں پر مشتمل ہے، اس کے علاوہ 104 تکنیکی ماہرین اور 120 ایڈیٹرس اور میڈیا ناقدین کو بھی شناخت نامے جاری کیے گئے ہیں۔

صحافیوں کی بہبود ی اسکیم (جے ڈبلیو ایس) آن لائن درخواست

پی آئی بی وزارت اطلاعات و نشریات کے ذریعہ نافذ کی جانے والی صحافیوں کی بہبودی اسکیم کے تحت مالی امداد کے لیے جے ڈبلیو ایس کمیٹی کے غور و فکر کے لیے صحافیوں/ان کے زیر کفالت افراد سے جے ڈبلیو ایس کے تحت حاصل ہونے والی درخواستوں کو بھی پروسیس کرتی ہے۔ صحافیوں کے کنبوں کو صحافی کی موت کی صورت میں درپیش ازحد مشکلات سے نمٹنے کے لیے 5 لاکھ روپئے تک کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ مستقل معذوری، سنگین حادثات اور صحت سے متعلق دیگر بڑے مسائل سے نمٹنے کے لیے بھی صحافیوں کو امداد فراہم کی جاتی ہے۔

حقائق کی جانچ پرکھ

پی آئی بی فیکٹ چیک اکائی کے کام کاج کا آغاز نومبر 2019 میں اس مقصد کے ساتھ ہوا تھا  کہ یہ اکائی جعلی خبر اور غلط اطلاعات کی ترسیل اور اس کے لیے ذمہ دار افراد کی حوصلہ شکنی کے لیے کام کرے گی تاکہ عوام الناس کو حقائق کی جانچ پرکھ کے لیے مشتبہ اور حکومت ہند سے متعلق لائق سوال اطلاعات کی رپورٹ کا ایک سہل ذریعہ فراہم ہو سکے۔ یہ حکومت ہند، اس کی وزارتوں، محکموں، سرکاری دائرہ کار کے اداروں وغیرہ سے متعلق جعلی، غلط اطلاعات پر مبنی اور گمراہ کن مواد جو سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر پیش کیا جاتا ہے ، اس کی تردید پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔

National Portal Of India
STQC Certificate