PIB Backgrounder
پردھان منتری دھن دھانیہ کرشی یوجنا (پی ایم ڈی ڈی کے وائی)
سو (100) اضلاع میں زرعی ترقی پر مرکوز اقدامات کا ایک سال
प्रविष्टि तिथि:
10 OCT 2026 4:25PM by PIB Delhi
ضلعی سطح کے اقدامات کے ذریعے زراعت میں تبدیلی لانا
ہندوستان کے زرعی شعبے میں مختلف خطوں اور کاشت کار برادریوں میں زرعی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ تاہم، ان امکانات کے باوجود، بہت سے علاقوں کو کم زرعی پیداوار، آبپاشی کی ناکافی سہولتوں، قرض تک محدود رسائی فصل کی کٹائی کے بعد کے بنیادی ڈھانچے کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اس کے نتیجے میں، یہ علاقے اپنی زرعی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پاتے اور معاشی ترقی کے معاملے میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔
پردھان منتری دھن دھانیہ کرشی یوجنا (پی ایم ڈی ڈی کے وائی) کا مقصد ان خامیوں کو دور کرنا اور ہدفی اقدامات کے ذریعے 100 امنگوں والے زرعی اضلاع کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ ضلعی سطح کی مخصوص ضروریات کو پورا کرتے ہوئے یہ اسکیم زرعی پیداوار میں اضافے، آبپاشی کی سہولتوں میں بہتری، قرض تک رسائی میں آسانی اور فصل کی کٹائی کے بعد کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے۔ مرکزی کابینہ نے 16 جولائی 2025 کو مرکزی کابینہ نے پی ایم ڈی ڈی کے وائی کو چھ سال کی مدت کے لیے منظوری دی تھی، جبکہ وزیر اعظم نے 11 اکتوبر 2025 کو اس کا باضابطہ آغاز کیا تھا۔ اس اسکیم کی پہلی سالگرہ اس سال 11 اکتوبر کو منائی جائے گی۔
مالی سال 2025-26 سے شروع ہونے والی اس چھ سالہ پہل کا مقصد 100 امنگوں والے زرعی اضلاع میں زراعت اور اس سے وابستہ سرگرمیوں کو فروغ دینا اور ان میں تبدیلی لانا ہے۔ ان اضلاع کا انتخاب تین اہم اشاریوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے: کم زرعی پیداواری صلاحیت، فصلوں کی کم شدت (ایک سال میں فی رقبہ اگائی جانے والی فصلوں کی تعداد کے تناظر میں) اور زرعی قرضوں کی کم تقسیم یا زرعی قرضوں کا کم اجرا۔ انتخاب کے عمل میں ہر ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں خالص زیرِ کاشت رقبے اور زیرِ کاشت اراضی پر مشتمل زرعی ہولڈنگزکے حصے کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ ہر ریاست سے کم از کم ایک ضلع اس اسکیم کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
اس اسکیم پر عمل درآمد 11 وزارتوں اور محکموں کی شراکت سے کیا جا رہا ہے۔ اس کے تحت مرکزی حکومت کی 36 اسکیموں کو یکجا کیا گیا ہے، جن میں ریاستی اسکیموں اور نجی شعبے کی شرکت بھی شامل ہے۔ اس مربوط طریقۂ کار کے ذریعے مقامی ضروریات اور زرعی ترجیحات کے مطابق اقدامات کرنے میں مدد ملے گی۔
نفاذ کا انتظامی ڈھانچہ
پی ایم ڈی ڈی کے وائی اسکیم پر عمل درآمد کے لیے تین سطحی انتظامی ڈھانچہ اختیار کیا گیا ہے:
- ضلعی سطح: ضلع کلکٹر/ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) کی سربراہی میں ضلع دھن دھانیہ کرشی یوجنا سمیتی ضلعی ایکشن پلان تیار کرتی ہے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بناتی ہے۔
- ریاستی سطح: ریاست کے چیف سکریٹری کی سربراہی میں ریاستی دھن دھانیہ کرشی یوجنا سمیتی ضلعی منصوبوں کا جائزہ لیتی ہے اور ان کی نگرانی کرتی ہے۔
- قومی سطح: اسکیم کی نگرانی کے لیے دو کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ قومی ایگزیکٹو کمیٹی کی سربراہی مرکزی وزیر زراعت و کسانوں کی بہبود کرتے ہیں، جبکہ قومی نگرانی کمیٹی کی سربراہی محکمہ زراعت و کسانوں کی بہبود (ڈی اے اینڈ ایف ڈبلیو) کے سکریٹری کرتے ہیں۔
ضلعی ایکشن پلان
- ضلعی ایکشن پلان (ڈی اے پی) بنیادی معلومات اور تشخیصی تجزیے کی بنیاد پر تیار کیے جاتے ہیں۔ ان منصوبوں میں مقامی زرعی ضروریات کی نشاندہی کی جاتی ہے اور متعلقہ مرکزی و ریاستی اسکیموں کو یکجا کرکے ان ضروریات کو پورا کرنے کے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ ڈی اے پی میں نتائج پر مبنی اہداف، سالانہ سنگِ میل اور متعلقہ اسکیموں سے منسلک اقدامات کا تعین کیا جاتا ہے۔
- ڈی اے پی متعلقہ ریاستی محکموں کو بھیجے جاتے ہیں تاکہ انہیں ان کے سالانہ ایکشن پلان میں شامل کیا جا سکے۔ اس سے ضروری منظوریوں کے حصول اور ضروری منظوریوں اور فنڈز کے اجرا میں سہولت ہوتی ہے ۔
- 36 اسکیموں کے تحت 121 اشاریوں کی مدد سے پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا ہے، جن میں 74 آؤٹ پٹ اشاریے اور 47 نتائج کے اشاریے شامل ہیں۔ پیداوار سے متعلق اشاریوں کی بنیاد پر اضلاع کی کارکردگی کی ماہانہ درجہ بندی پی ایم ڈی ڈی کے وائی ڈیش بورڈ (https://pmddky.niti.gov.in/)کے ذریعے کی جاتی ہے۔
نفاذ اور پیش رفت کا سال
پی ایم ڈی ڈی کے وائی ڈیش بورڈ نے اکتوبر 2025 کے آخری ہفتے میں کام کرنا شروع کردیا۔ آؤٹ پٹ اشاریوں کی بنیاد پر ماہانہ درجہ بندینومبر 2025 میں شروع ہوئی، جس سے 100 اضلاع میں پیش رفت کی نگرانی کے لیے ایک منظم طریقۂ کار دستیاب ہوا۔
- تمام 100 دھن دھانیہ اضلاع نے اپنے ضلعی ایکشن پلان تیار کر لیے ہیں اور ان پر عمل درآمد جاری ہے۔
- جائزے اور نگرانی کے لیے ریاستی، ضلعی اور قومی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔
- تمام 100 اضلاع نے اگست 2026 تک پیداوار سے متعلق اشاریوں کے اعداد و شمار جمع کرا دیے۔ ان تمام اضلاع نے مالی سال 2025-26 کے لیے نتائج سے متعلق اشاریوں کے اعداد و شمار بھی پیش کیے۔
- مرکزی نوڈل افسران باقاعدگی سے پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں اور اضلاع کی رہنمائی کر رہے ہیں۔
- محکمۂ سرکاری ادارے نے مالی سال 2026-27 اور 2027-28 کے لیے مرکزی سرکاری اداروں (سی پی ایس ایز) کے ذریعے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کی سرگرمیوں کے تحت دھن دھانیہ اضلاع کو اختیار کرنے کی تجویز شامل کی ہے۔
- چھ اہم مقاصد کے سلسلے میں 100 اضلاع کا اوسط اسکور اپریل 2026 میں 18.85 سے بڑھ کر اگست 2026 میں 46.89 ہو گیا، یعنی 28.04 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
- اسی مدت کے دوران مختلف مقاصد کے تحت اوسط اسکور میں بھی بہتری درج کی گئی:
- زرعی پیداوار میں اضافہ: 1.50 سے بڑھ کر 8.08
- فصلوں میں تنوع اور پائیدار زرعی طریقوں کو فروغ دینا: 4.08 سے بڑھ کر 10.18
- فصل کی کٹائی کے بعد ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ: 2.14 سے بڑھ کر 5.19
- آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا: 1.38 سے بڑھ کر 4.91
- قلیل مدتی اور طویل مدتی زرعی قرضوں تک رسائی میں اضافہ: 2.40 سے بڑھ کر 6.53
- بہتر حکمرانی اور خدمات کی فراہمی: 7.41 سے بڑھ کر 12.05
اسکیم کے پہلے سال میں کسانوں اور کسانوں کی پیداواری تنظیموں (ایف پی اوز) کو تجربات کے تبادلے اور نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم بھی فراہم کیا گیا۔ دسمبر 2025 میں منعقدہ پی ایم ڈی ڈی کے وائی ایف پی او سنگم میں 15 ریاستوں اور پی ایم ڈی ڈی کے وائی کے 33 اضلاع سے تعلق رکھنے والے 72 سے زائد ایف پی اوز نے شرکت کی۔ اس تقریب میں زرعی پیداوار میں اضافے، منڈیوں تک رسائی اور آمدنی میں اضافے سے متعلق تجربات پیش کیے گئے۔ اس کے علاوہ قدرتی کاشت کاری، تلہن کی پیداوار، شہد کی مکھیوں کی پرورش، محفوظ کاشت کاری، خرد آبپاشی (مائیکرو آبپاشی)، ادارہ جاتی مالیات اور ڈیجیٹل زراعت جیسے موضوعات کا بھی احاطہ کیا گیا۔
دھن دھانیہ اضلاع میں بہترین طریقۂ کار
مقامی پروسیسنگ اور بہتر قیمت کا حصول
مہاراشٹر کے گڈچرولی ضلع میں، جو پی ایم ڈی ڈی کے وائی کے تحت شامل ہے، دیسائی گنج فارمرز پروڈیوسر کمپنی لمیٹڈ نامی کسانوں کی پیداواری تنظیم (ایف پی او) کے 800 کسان اراکین ہیں۔ اس نے فی گھنٹہ 3 ٹن پروسیسنگ کی صلاحیت پر مشتمل چاول کی مل اور 900 میٹرک ٹن گنجائش والا گودام قائم کیا ہے۔ جے شری رام چاول کی قیمتی قسم کی پروسیسنگ اور فصل کی کٹائی کے بعد ذخیرہ کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی دستیابی سے مقامی سطح پر قدر افزائی اور بہتر قیمت وصول کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس ایف پی او نے مالی سال 2025-26 میں 1.24 کروڑ روپے کا کاروبار کیا۔
بہتر منڈیاں، زیادہ منافع
کرناٹک کے (تمکر) تمکورو ضلع میں، جو پی ایم ڈی ڈی کے وائی کے تحت شامل ہے، تپتور فارمر پروڈیوسر کمپنی لمیٹڈ نامی ایف پی او کے 750 کسان اراکین ہیں۔ یہ ایک فرانسیسی کثیر القومی کمپنی کو گول کھوپرا (ناریل کی خشک گری کی مخصوص قسم) فراہم کرتا ہے، جس سے اس کے کسان اراکین کو بہتر قیمتیں حاصل کرنے اور منڈیوں تک رسائی بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ ایف پی او نے مالی سال 2025-26 میں 1.60 کروڑ روپے کا کاروبار کیا۔ اس کے علاوہ، 12 ستمبر 2026 تک اس نے 1.9 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا 138 ٹن کھوپرا جمع کیا تھا۔
جدید آبپاشی، بہتر زرعی پیداوار
راجستھان کے جیسلمیر ضلع میں، جو پی ایم ڈی ڈی کے وائی کے تحت شامل ہے، جیسلمیر کرشی فیڈ پروڈیوسر کمپنی لمیٹڈ نامی ایف پی او کے 1,236 کسان اراکین ہیں۔ یہ تنظیم 2,000 ایکڑ رقبے پر کیڑوں کے مربوط انتظام (آئی پی ایم) کے طریقۂ کار کے تحت زیرے کی کاشت کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، 500 ایکڑ رقبے میں شمسی توانائی سے چلنے والے اسپرنکلر نظام کے ذریعے آبپاشی کی جاتی ہے۔ یہ اقدامات پانی کے مؤثر استعمال، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور زرعی پیداوار میں اضافے میں معاون ہیں۔
اضلاع میں زرعی ترقی کو تیز کرنا
پی ایم ڈی ڈی کے وائی نے 11 اکتوبر 2026 کو اپنا پہلا سال مکمل کیا۔ یہ سال ضلعی سطح پر ہدفی اقدامات اور زرعی ترقی کو فروغ دینے پر مرکوز رہا۔ اب 100 اضلاع میں ضلعی ایکشن پلان کے ذریعے کام کیا جا رہا ہے اور اشاریوں کی بنیاد پر پیش رفت کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ ضلع کی مخصوص ضروریات کے مطابق کیے جانے والے اقدامات زمینی سطح پر زرعی ترقی کو تقویت دے رہے ہیں۔ اب تک حاصل ہونے والی پیش رفت آئندہ برسوں میں بہتر ہم آہنگی اور پائیدار زرعی ترقی کی مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
حوالہ جات
وزیر اعظم کا دفتر
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2177454
وزارتِ زراعت و کسانوں کی بہبود
https://pmddky.niti.gov.in/aboutTheScheme
https://pmddky.niti.gov.in/
https://agriwelfare.gov.in/Documents/Guidelines/Guidelines_PM_DDKY_19092025_Final[1]_0.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2244624
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2201150
پی آئی بی کے پس منظر کے نوٹس
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?id=154909&NoteId=154909&ModuleId=3®=48&lang=2
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
***
UR-4962
(ش ح۔اس ک )
(रिलीज़ आईडी: 2321822)
आगंतुक पटल : 76