Rural Prosperity
جب تہواروں میں جشن کا انداز ماحول دوست ہو جائے!
Posted On: 28 SEP 2026 4:21PM
ہندوستان میں تہوار مختلف انداز میں منائے جاتے ہیں، لیکن ان کے جذباتی رنگ میں حیرت انگیز یکسانیت نظر آتی ہے۔ گنیش چترتھی کے موقع پر گھروں اور محلوں میں ’بپا ‘کی آمد ہوتی ہے۔ درگا پوجا کے پنڈال عقیدت اور فن کاری سے جگمگا اٹھتے ہیں۔ دیوالی دیوں کی روشنی، پوجا اور نئی شروعات کا پیغام لے کر آتی ہے۔ چھٹھ کے موقع پر خاندان گھاٹوں پر جمع ہوتے ہیں اور سورج دیوتا کو ارگھ پیش کرتے ہیں۔ عقیدے، خاندان اور برادری سے جڑی یہ تقریبات ان مقامات سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہیں جہاں یہ منعقد ہوتی ہیں۔
مندر میں پھول چڑھائے جاتے ہیں، پنڈال پوجا کا مقام بن جاتا ہے اور گھاٹ مقدس رسم کا حصہ بن جاتا ہے۔ جب یہ روایات برادریوں کو ایک ساتھ لاتی ہیں تو ان مقدس مقامات کی صفائی اور دیکھ بھال بھی جشن کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ یہی جذبہ سوچھتا ہی سیوا- 2026 کے ذریعے قومی سطح پر نمایاں ہو رہا ہے، جس کا آغاز 17 ستمبر 2026 کو کیا گیا۔ اس سال کی مہم کا موضوع ’’سوچھتا میں سہہ بھاگ؛ سوچھ بھارت، وکست بھارت‘‘ ہے۔ اس مہم میں صفائی ستھرائی کی مشترکہ ذمہ داری کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، جبکہ ’’سوچھ پرو، ہرت پرو‘‘ کے ذریعے صاف ستھرے اور سرسبز تہوار منانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ماخذ پر کچرے کی علیحدگی، کم استعمال، دوبارہ استعمال اور ری سائیکلنگ (3 آرز)، سرکلر اکانومی اور کچرے سے دولت کے اقدامات کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔
ہندوستان کے تہواروں کے رنگا رنگ منظرنامے میں اس تصور کو پہلے ہی بامعنی انداز میں عملی شکل دی جا رہی ہے۔ عقیدت کے طور پر چڑھائے جانے والے پھولوں کو دوبارہ کارآمد بنایا جا رہا ہے، گنپتی کی تقریبات میں مٹی کی واپسی ہو رہی ہے، تہواروں کے مقامات کی تیاری کے لیے بانس کا استعمال کیا جا رہا ہے اور چھٹھ کے گھاٹوں کو عقیدت مندوں کے لیے صاف رکھا جا رہا ہے۔ یہ تمام کوششیں ظاہر کرتی ہیں کہ گہری جڑیں رکھنے والی روایات وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہو سکتی ہیں، جبکہ ان کی بنیاد عقیدے، برادری کی شراکت اور ماحولیاتی ذمہ داری کے بڑھتے ہوئے احساس پر قائم رہتی ہے۔
جب عقیدت کے پھولوں کو نئی زندگی ملتی ہے
اجین میں صبح سویرے ہزاروں عقیدت مند پوجا کے لیے پھول لے کر مہاکالیشور مندر میں داخل ہوتے ہیں۔ ان کے لیے یہ پھول عقیدت اور ا آستھا کی نذرانے ہوتے ہیں۔ مندر میں ہر روز تقریباً 75,000 (پچھہتر)سے 100,000 (ایک لاکھ)افراد آتے ہیں اور روزانہ تقریباً 5 سے 6 ٹن پھولوں کا فضلہ پیدا ہوتا ہے۔ خصوصی ’پشپانجلی ایکونرمت‘گاڑیاں ان پھولوں کو جمع کرکے ایک پروسیسنگ پلانٹ تک پہنچاتی ہیں، جہاں انہیں کھاد، بریکٹس اور حیاتیاتی ایندھن جیسی مصنوعات میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
شیو ارپن سیلف ہیلپ گروپ سے وابستہ خواتین کے لیے پھینکے گئے پھول روزگار اور ایک نئے مقصد کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ 2024 میں پھولوں کے فضلے کو 30 ملین سے زیادہ اگربتیوں اور دیگر ماحول دوست مصنوعات میں تبدیل کرکے اس اقدام نے نہ صرف کچرے کو کارآمد بنایا بلکہ روزگار کے مستحکم مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔ اس طرح عقیدت کے طور پر پیش کیا جانے والا پھول اپنے سفر کے اختتام کی علامت نہیں بنتا؛ پوجا کے بعد کاروبار، روزگار اور ماحولیاتی ذمہ داری کے ذریعے اسے ایک نیا مقصد مل جاتا ہے۔
جب جشن اور ماحولیاتی ذمہ داری ساتھ ساتھ ہوں
لاکھوں لوگوں کے لیے گنیش چترتھی ایک انتہائی ذاتی اور عقیدت سے بھرپور تہوار ہے۔ بپا موسیقی اور آشیروادکے درمیان گھروں میں آتے ہیں، خاندان کا حصہ بن جاتے ہیں اور آخرکار وسرجن کے لیے رخصت ہوتے ہیں، اپنے ساتھ واپسی کا وعدہ لیے۔ یہ رخصتی مقدس ہوتی ہے، لیکن یہی وہ مرحلہ بھی ہے جب ایک عزیز روایت ہمارے آبی ذخائر کے تحفظ کی ذمہ داری سے جڑ جاتی ہے۔
سال2024 میں نوی ممبئی نے گنیش کی مورتیوں کے وسرجن کے لیے 136 مصنوعی تالاب بنائے، جہاں عقیدت مندوں کو وسرجن کے لیے مخصوص مقامات فراہم کیے گئے۔ ان مقامات کی معلومات سوشل میڈیا اور واٹس ایپ کے ذریعے شیئر کی گئیں، جس سے عقیدت مندوں کے لیے ان سہولیات تک رسائی آسان ہوئی اور قدرتی آبی ذخائر پر دباؤ کم کرنے میں بھی مدد ملی۔
برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے مورتی سازوں کو تقریباً 500 ٹن مفت مٹی فراہم کی، تاکہ گنیش کی مورتیوں کے لیے روایتی اور ماحول دوست مواد کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ اس کوشش کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے مہاراشٹر آلودگی کنٹرول بورڈ نے ماحول دوست مورتیوں اور سجاوٹ کو فروغ دینے کے لیے ایکو بپا موبائل ایپلی کیشن شروع کی۔ اس اقدام کے ذریعے عقیدت مندوں اور کاریگروں کو پائیدار طریقے اپنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے، جبکہ جشن کی ثقافتی اور مذہبی روح کو بھی برقرار رکھا جا رہا ہے۔
اس تصور کو نوجوان شرکا میں بھی پذیرائی ملی۔ پمپری چنچوڑ میونسپل کارپوریشن نے اسٹوڈنٹس کے لیے ماحول دوست مورتی سازی اور سجاوٹ کا مقابلہ منعقد کیا۔ انہیں مٹی، کاغذ کی لُگدی، قدرتی ریشوں اور ری سائیکل شدہ مواد کے استعمال کی ترغیب دی گئی، تاکہ تقریبات میں ماحولیاتی تحفظ کو شامل کیا جا سکے۔ مہاراشٹر کے تھانے میں تقریباً 500 اسٹوڈنٹس نے شادو مٹی سے گنپتی کی مورتی بنانا سیکھا۔ تخلیقی صلاحیتوں اور ہنرمندی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ان اقدامات نے نوجوان ذہنوں کو یہ سمجھنے کا موقع بھی دیا کہ اپنی عزیز روایات کو زیادہ ماحولیاتی ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
وسرجن کی تقریب (2023) کے بعد بھی شراکت داری کا جذبہ جاری رہا۔ 900 سے زیادہ سوچھتا رضاکاروں جن میں 500 سے زائد اسٹوڈنٹس شامل تھے، نے ورسووا بیچ کی صفائی میں حصہ لیا۔ انہوں نے تقریباً 80,000 کلوگرام کچرا ہٹایا اور تقریباً 7,400 پلاسٹر آف پیرس سے بنی گنیش کی مورتیاں جمع کیں۔ بپا کی رخصتی سیوا کا ایک اور موقع بن گئی۔
سبز تبدیلی کے لیے ہمیشہ کسی نئی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی اس کا مطلب ان ہی چیزوں اور مواد کی طرف واپس لوٹنا ہوتا ہے جنہیں برادریاں نسلوں سے استعمال کرتی آئی ہیں۔
آسام کے ڈگبوئی میں گنیش پوجا (2023) کا انعقاد بانس کے گرد کیا گیا۔ بانس کا استعمال مورتیوں، داخلی دروازوں اور روایتی سجاوٹ کے لیے کیا گیا، جس میں جاپی سرپوش اور خوراہی ٹوکریاں بھی شامل تھیں۔ اس جشن نے مقامی روایت اور ماحولیاتی تحفظ کو ایک ساتھ جوڑ دیا۔
دہلی میں اس تصور کی ایک اور خوبصورت مثال ماحول دوست گنیش کی مورتیوں کی صورت میں سامنے آئی، جو ناریل کی چھال اور مٹی سے بنائی گئیں اور ان میں پودے اگانے والے بیج بھی شامل کیے گئے۔ وسرجن کے بعد یہ مورتیاں مٹی میں تحلیل ہوگئیں، جس سے ان میں موجود بیجوں کو پھوٹنے اور پودوں کی شکل میں نشوونما پانے کا موقع ملا۔ یہ رسم اپنی روایتی جڑوں سے جڑی رہی، جبکہ استعمال کیے گئے مواد نے اس سفر کو مکمل کرنے کا زیادہ پائیدار طریقہ فراہم کیا۔
پنڈال سے پرساد تک: ماحول دوست جشن
درگا پوجا عقیدت، فن کاری اور برادری کا جشن ہے، جس میں پنڈال عارضی پوجا کے مقام میں تبدیل ہو جاتے ہیں جہاں دیوی کا استقبال کیا جاتا ہے۔ اب ان مقامات کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد بھی ماحول کے تئیں بڑھتی ہوئی بیداری کی عکاسی کر رہے ہیں۔ 2023 میں تھرموکول اور پلاسٹک کے بجائے بانس، لکڑی، ناریل کے چھلکے، کپڑے، جوٹ، ناریل کے ریشے، گھاس، بھوسے، سرکنڈے اور کاغذ کا استعمال کیا گیا، جبکہ پانی میں تحلیل ہونے والی مٹی سے بنی درگا کی مورتیاں استعمال کرنے کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی۔
یہ کوشش پنڈال تک محدود نہیں رہی۔ نیلے اور سبز کچرے کے ڈبے زیادہ آمدورفت والے مقامات پر رکھے گئے، رات کے وقت صفائی مہم چلائی گئی اور پلاسٹک سے پاک سجاوٹ کو فروغ دیا گیا۔ دہلی کے بعض پنڈالوں نے اپنی تنصیبات کے لیے بانس اور سوتی کپڑے کو بنیادی مواد کے طور پر استعمال کیا۔
نذرانوں کو بھی دوسری زندگی ملی۔ پوجا کے بعد جمع کیے گئے پھولوں اور دیگر نامیاتی مواد کو کھاد بنانے اور دیگر مفید مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ پرساد اور ناشتہ کاغذ کی پلیٹوں، کیلے کے پتوں، پتوں سے بنی پلیٹوں اور مٹی کی پلیٹوں میں پیش کیا گیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جشن کے مانوس عناصر کو برقرار رکھتے ہوئے زیادہ ماحول دوست طریقے بھی اپنائے جا سکتے ہیں۔
دیوالی منائیں، سوچھتا کے جذبے کو آگے بڑھائیں
دیوالی ہمیشہ سے صفائی ستھرائی سے گہرا تعلق رکھنے والا تہوار رہا ہے۔ گھروں کی صفائی کی جاتی ہے، پرانی چیزوں کو الگ کیا جاتا ہے اور خاندان پوجا، تحائف اور مٹھائیوں کے لیے ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں۔’’سوچھ دیوالی، شبھ دیوالی‘‘مہم اسی روایت کو آگے بڑھاتی ہے۔ اس کے تحت کچرے کی علیحدگی، 3 آر یعنی کم استعمال، دوبارہ استعمال اور ری سائیکلنگ، مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات اور زیادہ صاف ستھری تقریبات کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
مہاراشٹر کے میرا بھائندر میں دیوالی کی تیاری اور اجتماعی صفائی کے ساتھ جشن کا آغاز ہوا۔ دیوالی سے قبل خصوصی صفائی مہم کے دوران ’صفائی متروں‘ نے عوامی مقامات کی صفائی کی، قومی ہیروز اور مجاہدین آزادی کے مجسموں کو دھویا اور سبز علاقوں کی دیکھ بھال کی۔
راجستھان اور انڈمان و نکوبار جزائر میں شہریوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ دیوالی کی صفائی کے دوران گھروں سے نکلنے والے کچرے کو قریبی کم استعمال، دوبارہ استعمال اور ری سائیکلنگ مراکز تک پہنچائیں۔
2023 میں دوبارہ استعمال کا جذبہ تہواروں میں تحائف دینے کے انداز تک بھی پہنچا۔ دہلی کے نوجیون وہار میں منعقدہ ’خریدنے سے پہلے تبدیل کریں، تحفوں کی نئی زندگی میلہ‘ میں مکینوں نے درجہ بندی کے ساتھ بنائے گئے تحفوں کے ذخیرے کے ذریعے ایسے تحائف کا تبادلہ کیا جنہیں وہ استعمال نہیں کر رہے تھے۔ صرف ایک دن میں 2 گھنٹے سے بھی کم وقت کے اندر 50 تحائف موصول ہوئے۔
دریں اثنا، تری پورہ کے میلہ گھر میں سیلف ہیلپ گروپس سے وابستہ خواتین نے ماحول دوست دیوالی کے لیے مٹی کے دیے تیار کیے۔ مزید برآں، دہلی کے دیپ مہوتسو، سوچھ اتسو اور ووٹر اتسو نے یہ دکھایا کہ جشن خود بھی صفر کچرے والی تقریب بن سکتا ہے۔ کپڑے کے بچے ہوئے ٹکڑوں سے دوبارہ استعمال کے قابل جھنڈیاں تیار کی گئیں، پھینکے گئے گتے سے سیلفی فریم بنائے گئے اور پرانی آئس کریم کی لکڑیوں سے لٹکنے والی سجاوٹ تیار کی گئی۔ ان کی کوششوں نے ایک مانوس روایت کو زندہ رکھتے ہوئے زیادہ پائیدار طریقہ اپنانے کا راستہ دکھایا۔
جب دیے بجھ جاتے ہیں
گوہاٹی میں دیے روشن ہونے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ دیوالی کی روایتی تقریبات میں استعمال ہونے والے کیلے کے پتوں کو بعد میں جمع کرکے ہاتھیوں کی خوراک کے طور پر بھیجا گیا۔
راجستھان کے جھالراپاٹن میں نرمالیہ واہن گاڑیاں مندروں سے ہار اور پوجا کے دیگر سامان کو جمع کرتی ہیں۔ جمع کیے گئے اس مواد کو بعد میں پراسیس کرکے کھاد میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ مدھیہ پردیش کے اندور میں تہوار کے بعد صفائی کا خصوصی کام صبح 4 بجے ہی شروع کر دیا گیا۔ ’صاف ہوا کے لیے صفائی‘ مہم کے تحت چھڑکاؤ کرنے والی گاڑیوں کے ذریعے درختوں اور پودوں کو پانی دیا گیا اور ’سوچھتا سے سوچھ وایو‘ کا پیغام دیا گیا۔
جہاں دریا آشیرواد کا حصہ بن جاتا ہے
چھٹھ پوجا ہندوستان کے فطرت سے گہرے اور قدیم رشتے کی عکاسی کرتی ہے۔ عقیدت مند پانی کے سامنے کھڑے ہو کر سورج کو ارگھ دیتے ہیں- اکثر گنگا جیسے مقدس دریاؤں کے کنارے۔ اس طرح گھاٹ محض جشن کا مقام نہیں رہتا بلکہ اس مذہبی رسم کا ایک لازمی حصہ بن جاتا ہے۔
بہار کے پٹنہ میں میونسپل کارپوریشن مخصوص گھاٹوں پر صفر کچرے والی چھٹھ پوجا کا اہتمام کرتی ہے۔ کچرے کی علیحدہ علیحدہ ڈبیاں نصب کی جاتی ہیں، جبکہ تقریبات کے دوران پیدا ہونے والے کچرے کو جمع کرنے کے لیے خصوصی گاڑیاں تعینات کی جاتی ہیں۔ گیلے کچرے کو نامیاتی کھاد میں تبدیل کیا جاتا ہے اور پلاسٹک کے استعمال پر پابندی نافذ کی جاتی ہے۔ پوجا سے ایک ماہ قبل عقیدت مندوں اور وسیع تر برادری کو تہوار کے ماحول کو صاف ستھرا اور حفظان صحت کے مطابق رکھنے کی ترغیب دینے کے لیے معلومات، تعلیم اور ابلاغ (آئی ای سی) مہم بھی چلائی جاتی ہے۔
یہ طریقہ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ تہوار کی پاکیزگی کا تعلق ان مقامات کی صفائی سے بھی گہرا ہے جہاں اسے منایا جاتا ہے۔ جب دریا عبادت کا حصہ بن جائے تو اس کے کناروں کی دیکھ بھال عقیدت کے اظہار کی ایک صورت بن جاتی ہے۔
ایسا جشن جو اپنے پیچھے کچھ اچھا چھوڑ جائے
کسی تہوار کو اس کی آشیروادوں، روشنیوں، موسیقی اور جشن منانے کے لیے ایک ساتھ آنے والے لوگوں کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے۔ لیکن ہر جشن اپنے پیچھے کچھ نہ کچھ چھوڑ بھی جاتا ہے- صفائی کے منتظر گلی کوچے، گھاٹ پر بکھرے پھول، آبی ذخائر میں موجود مورتی یا لوگوں کے منتشر ہو جانے کے بعد رہ جانے والی سجاوٹ۔ اب اس کے پیچھے کچھ اور بھی چھوڑا جا سکتا ہے: ایک صاف ستھرا گھاٹ، ری سائیکل کی گئی سجاوٹ، مٹی کی مورتی، ایک نیا پودا، روزگار کا ذریعہ یا ایسی برادری جس نے زیادہ ذمہ داری کے ساتھ جشن منانا سیکھ لیا ہو۔
ہندوستان کے تہواروں کو ماحول دوست بننے کے لیے اپنے رنگ کھونے کی ضرورت نہیں ہے۔ دیا بدستور روشن رہ سکتا ہے، ڈھول بدستور بج سکتے ہیں اور دعائیں بدستور بلند ہو سکتی ہیں۔ تبدیلی صرف اس بات میں آ سکتی ہے کہ جشن ختم ہونے کے بعد ہم اپنے پیچھے کیا چھوڑتے ہیں۔ جشن اس وقت حقیقی معنوں میں مکمل ہوتا ہے جب اس کی خوشی لوگوں کے ساتھ باقی رہے، جبکہ اس کا بوجھ زمین پر باقی نہ رہے۔
حوالہ جات
وزارت ہاؤسنگ و شہری امور
https://sbmurban.org/swachhata-parv
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2032112
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1968363
https://sbmurban.org/clean-green-diwali
https://sbmurban.org/Maharashtra-Celebrates-Green-Ganeshotsav/
https://sbmurban.org/swachh-sanskar-aur-diwali
وزارت جل شکتی
https://www.pib.gov.in/newsite/erelcontent.aspx?lang=2®=48&relid=294881
پی ڈی ایف کے لیے یہاں کلک کریں:
****
ش ح- ظ الف- خ م
UR No. 4300
(Features ID: 160233)
आगंतुक पटल : 3
Provide suggestions / comments